Daily Mashriq


سیاحوںکا تحفظ اور خود حفاظتی کے تقاضے

سیاحوںکا تحفظ اور خود حفاظتی کے تقاضے

ان دنوں شہری خاندان کی برفیلے علاقے کی سیاحت کے دوران بچی کا انجانے میں برف ٹوٹنے سے نیچے گہرے پانی میں ڈوب جانے کی ویڈیو وائرل ہے۔ اسی طرح گزشتہ سال ایک شکستہ پل پر بڑی تعداد میں سیاحوں کا اکٹھے ہوکر تصویر کھینچتے ہوئے نیچے دریا میں گرنے کا حادثہ رونما ہوا تھا۔ ملک کے مختلف حصوں میں آنے والے سیاحوں کو مختلف نوعیت کے خطرات کا ادراک نہ ہونا فطری امر ہے۔ ان کو اس قسم کے مقامات کے حوالے سے اکثر آگاہی نہیں ہوتی اور وہ خود سے بھی اس پر شاید اسلئے توجہ نہیں دے پاتے کہ وہ سیاحتی مقامات کے حسین نظاروں میں کھو جاتے ہیں۔ سیاحوں کے عدم احتیاط کے باعث اس طرح کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جس کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ سیاحوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہی کیلئے معلوماتی پمفلٹ دئیے جائیں، علاوہ ازیں حساس مقامات پر احتیاط کرنے کے انتباہ کیساتھ ممکنہ خطرات بورڈ پر تحریر کئے جائیں اور سیاحوں کو اس ضمن میں احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جائے جو لوگ سیاحت کیلئے کسی مقام کا انتخاب کریں ان کی اپنی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس علاقے کے بارے میں مناسب معلومات حاصل کریں اور فطرت کے نظاروں کو دیکھ کر مبہوت ہوکر خود حفاظتی کی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہوں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کو مطالعاتی وتفریحی دوروں پر لے جانے والے منتظمین بھی ان کی حفاظت اور معلومات کی فراہمی کی ذمہ داری پر توجہ دیں۔ ٹورآپریٹرز کو بھی احتیاطی تدابیر سے سیاحوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو خصوصی ذمہ داریاں دی جائیں۔ سیاحوں کی گاڑیوں کے محفوظ اور قابل سفر ہونے کی احتیاطی چیکنگ کا اگر انتظام کیا جاسکے تو یہ احسن ہوگا۔ ٹورازم کارپوریشن خیبر پختونخوا کو اس امر پر خاص طور پر توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے کہ سیاحوں کے جان ومال وآبرو کی حفاظت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو صوبے کے پرفضا اور حسین مقامات کی سیاحت پر مائل کیا جاسکے۔ محفوظ سیاحت کیلئے یہ اقدامات ضروری ہیں۔ دریاؤں اور ندی نالوں میں نہانے سے گریز کیا جائے، پانی کے قریب پتھروں پر چڑھنے سے گریز کیا جائے، نمی اور پھسلن والی جگہوں پر تصاویر بالخصوص سیلفی نہ لی جائیں، خطرناک پیدل راستوں کو عبور کرنے کی کوشش نہ کی جائے، دریاؤں اور ندی نالوں کی گہرائی کو کم ہرگز نہ سمجھیں، ایک قدم بھی خطرناک اور جان لیوا ہو سکتا ہے، سیاح تنبیہی ہدایت ناموں اور نشانات کی پابندی کریں، لینڈ سلائیڈ والی جگہوں پر گاڑی کھڑی نہ کی جائے، بارش میں لینڈ سلائیڈنگ پر عجلت میں سڑک عبور کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

ادارہ جاتی پریکٹس نہ کرنے کی ضد

ادارہ جاتی پریکٹس نہ کرنے والے ڈاکٹروں کو عہدوں سے ہٹانے کا بلاامتیاز فیصلہ صرف فیصلے کی حد تک نہیں ہونی چاہئے بلکہ احکامات کی عدم تعمیل کرنے والوں کیخلاف قانونی کارروائی میں محکمہ صحت اور خودمختار تدریسی ہسپتالوں کی انتظامیہ کو کسی دباؤ میں نہیں آنا چاہئے۔ ہسپتالوں ہی میں ڈاکٹروں کی نجی پریکٹس کا معاملہ گزشتہ حکومتوں کے دور سے متنازعہ رہا ہے ایک موقع پر حکومت کو اس ضمن میں کامیابی کی صورت بھی نظر آگئی تھی۔ اس وقت محکمۂ صحت کی ضلعی انتظامیہ کا دائرۂ اختیار خاصا وسیع اور فعال تھا جس کے بساط بھر اقدامات کے باعث ڈاکٹر نجی کلینکس پر مریضوں کے معائنے اور نجی ہسپتالوں میں آپریشن سے خائف رہنے لگے تھے لیکن ان اقدامات کو سنجیدہ اور عملی شکل نہ دی جاسکی جبکہ حکومت بھی دباؤ اور مصلحت کا شکار ہوگئی جس کے بعد بوتل میں بند ہونے کے قریب جن اتنا طاقتور ہوگیا کہ اب تک قابو میں نہیں آرہا۔ تدریسی ہسپتالوں میں نجی پریکٹس پر اعتراضات اپنی جگہ تدریسی ہسپتالوںکی خودمختاری کے بعد سے اب تک اصلاح اور بہتر ی کی بجائے ابتری کی جو صورتحال چل رہی ہے اس پر سنجیدگی کیساتھ غور کر کے ڈاکٹروں اور انتظامیہ دونوں کیلئے قابل قبول اور قابل عمل فارمولہ وضع کر کے اس پر کار بند نہ ہوا جائے تو صوبے میں علاج کا نظام جس بگاڑ کا شکار ہوسکتا ہے اس کی اصلاح ممکن نہ رہے گی۔ ہمارے تئیں اس معاملے پر سینئر ڈاکٹروں کو عہدوں سے ہٹانے اور جواب طلبی مسئلے کا حل نہیں، سینئر ڈاکٹر اس سے قبل اس قسم کے سلوک پر ہسپتالوں سے رخصت، ایل پی آر اور ریٹائرمنٹ کے قانونی حربے استعمال کر کے بحران کی کیفیت پیدا کر چکے ہیں جن کی جگہ لینے والوں کو اگر پھر انہیں حربوں کے استعمال پر مجبورکیا گیا تو بحران پر قابو پانا ممکن نہ رہے گا اور تدریسی ہسپتال ماہر ڈاکٹروں سے خالی ہوجائیں گے اور عوام مجبوراً سرکاری ہسپتالوں کی جگہ سبکدوش ہونے والے ماہرین طب سے نجی طور پر رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

متعلقہ خبریں