Daily Mashriq

احتساب سب کا

احتساب سب کا

پاکستان تحریک انصاف کی یہ بڑی خوبی ہے کہ جب سے وہ معرض وجود میں آئی ہے ایک بات پر استحکام سے کھڑی ہے کہ احتساب سب کا کیا جائے گا، عملاً کیا صورتحال ہے اس پر تبصرے کی ضرورت نہیں۔ احتساب کے بارے میں پوری قوم بھی یکسو ہے کہ احتساب بلاتخصیص ہونا چاہئے، قومی احتساب بیورو بھی نواز شریف کے دور کے آخری ایا م سے کچھ زیادہ ہی متحرک نظر آنے لگا ہے اور اب بھی اس کی چال میں لرزش پیدا نہیں ہوئی ہے مگر گزشتہ دنوں ایک ایسا واقعہ رونما ہوگیا جس کی وجہ سے نیب کو اس نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا، وہ یہ کہ طیبہ گل نامی خاتون نے ایک ویڈیو وائرل کر دی جس سے پوری قوم اور باہر کی دنیا بھی چونک اُٹھی، وہ تھی چیئرمین نیب کے کردار سے متعلق۔ اس کے بعد کیا ہوا، پورے ملک میں اس ویڈیو کے بارے ہاہاکار ہو گئی۔ طیبہ گل کا سوشل میڈیا پر انٹرویو بھی آیا اور اس نے ویڈیو کے اصلی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کچھ ناگوار سی باتیں بھی کیں۔ تاہم چیئرمین نیب جسٹس ریٹائر جاوید اقبال کی جانب سے اس امر کے بارے میں منہ نہیں کھولا گیا، البتہ سیاسی جماعتوں نے بھی اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور اس کو سیاسی ڈلاؤ میں تبدیل نہیں کیا جو پاکستان میں مثبت سیاسی ماحول کی کرن ہے تاہم سیاسی جماعتوں کی جانب سے حکومت وقت پر الزام تراشیاں ضرور ہوئیں اور اس ویڈیوز کے بارے میں یہ دھرایا گیا کہ یہ حکومت کی سازش ہے اور وہ نیب کے چیئرمین کیخلاف اقدامات کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ کہ انہیں ان کے منصب سے علیحدہ کرنا چاہتی ہے، یہ الزام کسی کے دل کو بھایا نہیں کیونکہ چیئرمین نیب کا عہدہ ایک آئینی عہدہ ہے گویہ درست ہے کہ ماضی میں ایسے آئینی عہدوں پر فائز عہدیداروں کو مستعفی کرایا گیا ہے مگر اس وقت ملک کی سیاسی صورتحال مختلف ہے، اگرچہ حکمران جماعت کے لیڈروں کی جانب سے واضح کر دیا گیا ہے کہ حکومت چیئرمین نیب کے نہ تو خلاف ہے اور نہ ان کو ہٹانا مقصود ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ احتساب کا عمل غیرجا نبدارانہ طور پر جاری وساری رہے بات تو درست لگتی ہے کیونکہ اگر موجودہ چیئرمین ازخود بھی مستعفی ہو جا تے ہیں تو بھی حکومت کیلئے نئے چیئرمین کی تقرری کھٹن تر ہو جائیگی۔، بعض حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ڈپٹی چیئرمین قائم مقام چیئرمین کی حیثیت سے عہدہ سنبھالیں گے مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ قائمقام چیئرمین نیب کے کلی اختیار استعمال نہیںکر سکتا جس کیلئے لازمی چیئرمین نیب کا تقرری ضروری ہے ورنہ نیب کا سارا کام ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔ اس بات کو یوں سمجھ لینا چاہئے کہ چیئرمین نیب کو ہٹانے کیلئے وہ ہی طریقہ اختیار کیا جائیگا جو اعلیٰ عدالت کے ججوں کیلئے ہے، اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کیخلاف سپریم جوڈیشنل کونسل میں ریفرنس پیش کیا جاتا ہے جیسا کہ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدر مملکت نے ریفرنس پیش کرنیکی اجازت دیدی ہے۔ اس وقت دہشتگردی کیخلاف فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی اشد ضرورت ہے مگر حزب اختلاف کیساتھ عمران خان کے رویوں کی وجہ سے وہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع نہیں لے پا رہے ہیں چنانچہ اگر چیئرمین نیب کی نشست کسی بھی بناء پر اس وقت خالی ہو جا تی ہے تو تحریک انصاف نئے چیئرمین کی تقرری نہیں کر پائے گی کیونکہ قواعد وآئینی تقاضوں کے مدنظر حکومت اور حزب اختلاف کے قائد کی رضامندی سے ہی یہ تقرری ہو سکتی ہے چنانچہ ایسے ماحول میں حکومت خواہشات کے باوجود کچھ کرنے سے قاصر ہے۔ البتہ طیبہ گل کی ویڈیو سے جو ماحول پیدا ہوا ہے وہ بہت ہی افسوسناک ہے، اس بارے میں ملک کی بدنامی اور عہدے کے تقدس کو بھی ضعف پہنچا ہے چنانچہ بات صاف ہونی چاہئے اور یہ معاملہ حل ہونا چاہئے، یہ عوام کا حق ہے کہ اس کے سامنے حقائق آئیں، بعض حلقے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ چیئرمین نیب اور طیبہ گل کا نجی معاملہ ہے تو یہ درست نہیں ہے بات کسی بھی حلقے کی جانب سے نہیں کہی گئی ہے ویڈیو میںدکھایا گیا ہے کہ طیبہ گل کی ملاقاتیں نیب کے دفتر میں ہوئیں، نیب کے امور سے متعلق ہوئیں، چیئرمین نیب کا عہدہ ایک بڑے تقدس کا متحمل ہے پھر خود چیئرمین نیب کی ذات بھی معزز ہے اس پر کسی طور کیچڑ نہیں اچھالی جاسکتی یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ طیبہ گل کے الزام اور ویڈیو وائرل ہونے سے پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے اس کا حل کیا ہے ماضی میں تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ایسے اسکینڈل مغربی دنیا میں ہوتے رہے ہیں، مثلاً امریکا کے سابق صدر بل کلنٹن پر اپنی سیکرٹری کیساتھ اسکینڈل منظرعام پرآیا تھا جس کا بل کلنٹن نے اعتراف کر کے قوم سے معافی مانگ لی تھی جہاں تک طیبہ گل کی جانب سے اسکینڈل کا تعلق ہے تو اس بارے میں نیب کی جانب سے سرکاری طور پر تردید کی گئی ہے جس نے یہ واضح کر دیا کہ یہ معاملہ دو افراد کے درمیان نجی نہیں ہے جس کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلئے دو افراد پر موقوف کر دیا جائے۔ ا س کا بہترین حل یہ ہے کہ جس طرح کہا جا رہا ہے کہ نیب طیبہ گل اور اس کے خاوند کیخلاف بعض جرائم کے سلسلے میں تفتیش کر رہی ہے چنانچہ طیبہ گل نے اس انداز میں بلیک میل کرنے کی سعی بد کی ہے تو اس کا آسان سا حل ہے کہ ویڈیو کی فرانزک جانچ کرا لی جائے اسی طرح ٹیلی فون پر جو گفتگو کی ریکارڈنگ عام کی گئی ہے اس کا فرانزک ٹیسٹ کرا لیا جائے پھر یہ بھی کہ ٹیلی فون کالز کا بھی فرانزک ٹیسٹ سے پتہ چل سکتا ہے کہ کس نے کس کو کالیں کیں اور کب کب کالیں ہوئیں اور کتنی دیر تک یہ کالیں جاری رہیں۔ اس عمل سے سارا معاملہ شفاف ہو جائے گا اور اگر واقعی طیبہ گل نے اپنے اور اپنے خاوند کیخلاف تفتیش میں رخنہ پیدا کرنے کیلئے بلیک میلنگ کا ہتھیار استعمال کیا ہے تو اس کا مبینہ جرم بھی ثابت ہو جائے گا پھر اس کیخلاف سخت ترین قانونی اقدام کرنا چاہئے تاکہ آئندہ کوئی اپنے بچاؤ کیلئے ایسے حربے استعمال نہ کرے۔

متعلقہ خبریں