Daily Mashriq


میں تو دستور کیساتھ کھڑا ہوں

میں تو دستور کیساتھ کھڑا ہوں

سفرحیات کی چھ دہائیاں طے کرکے ساتویں دہائی کے پہلے سال کو بھگت رہا ہوں۔ پچھلے ساٹھ برسوں میں سے ابتدائی 9سال الگ کر لیجئے جب اپنے والدین کے زیرسایہ تھا تو ساڑھے اکاون برس ہوگئے محنت مزدوری کرتے ہوئے، سکول کے اوقات کار کے بعد خوانچہ اُٹھانے، پھر ایک لائبریری پر بیٹھنے اور نویں جماعت میں کراچی کے ایک ایونگر اخبار میں بچوں کا صفحہ مرتب سے عمل صحافت کا آغاز ہوا۔ ابتدائی ماہ وسال کا ذکر کرتے ہوئے مجھے کبھی شرمندگی نہیں ہوئی۔ کیوں ہو محنت مزدوری کرکے تعلیم حاصل کرنا کوئی برائی ہے کیا۔ سیدھے سادھے سفید پوش گھرانے میں جنم لیا۔ والد صاحب ان فوجی افسروں میں شامل تھے جنہوں نے مولانا مودودی اور مولانا عبدالستار نیازی کو سنائی گئی سزائے موت پر فوجی میس میں تبادلہ خیال کے دوران اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور فوج سے رخصت کر دئیے گئے۔ خیر یہ ایک الگ قصہ ہے پھر سہی، فی الوقت ہم آج کے کالم کو آگے بڑھاتے ہیں۔ چند برس ادھر مجھ سے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران میزبان نے دریافت کیا آپ خوانچہ لگانے اور لائبریری میں بیٹھنے کے معمولات کا ذکر کیوں کرتے ہیں، 30سے زیادہ کتابیں لکھنے اور مرتب کرنے، متعدد قومی اخبارات کے ادارتی شعبوں پر رہنے کے بعد اس تعارف کی ضرورت کیا ہے؟ عرض کیا محنت کش قلم مزدور ہوں سونے کا چمچ منہ میں لیکر پیدا نہیں ہوا۔ شرمندہ کس بات پر ہوؤں۔ میرا ماضی میرا فخر ہے، اسی ماضی نے آگے بڑھنے کی ہمت دی اور آج آپ کے سامنے بیٹھا ہوں۔ اس نے دریافت کیا‘ اگر کبھی دو چیزوں کا انتخاب کرنا پڑے تو کونسی دو چیزیں پسند کریں گے؟ عرض کیا‘ دستور اور سرائیکی قومی شناخت، میزبان بولے کچھ سمجھا نہیں۔ عرض کیا‘ دستور اسلئے کہ 1973ء میں اسے بنانے والے اب دستیاب ہیں نہ اس وقت جیسی برداشت کے حامل لوگ۔ ہمارے اکٹھے رہنے کی یہ واحد ضمانت ہے بدلتے ہوئے حالات میں نئی ضرورتوں کے مطابق اس میں ترامیم ہوسکتی ہیں۔ ایک دن آئیگا جب ہم شرف انسانی متصادم چند ترامیم منسوخ کروانے کے مقام پر فتح مندی کیساتھ کھڑے ہونگے یہ بھی طے کرلیں گے کہ یہ یک نشین نہیں پانچ قومی فیڈریشن ہے لیکن اگر خاکم بدہن دستور کو کچھ ہوا تو ساری بنیاد ہل جائیگی ہم اس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

چند دن ادھر ایک طالب علم نے سوال کیا‘ آپ کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ آپ فوج کے مخالف ہیں؟ مسکراہٹ ہوا کے دوش پر رکھتے ہوئے اس عزیز سے کہا‘ فوج ریاست کا ادارہ ہے‘ دستور میں اس کے معاملات‘ فرائض اور حدود طے ہیں۔ میرے والد اس میں رہے، ایک مرحوم بھائی، آج بھی چند عزیز فوج میں ہیں۔ مجھے ذاتی پرکاش بالکل نہیں البتہ چار فوجی آمریتوں میں سے تین کیخلاف ہوئی پرعزم جدوجہد میں اپنے حصے کے کردار پر خوش ہوں۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی یہی عرض کرتا ہوں کہ لولی لنگڑی طبقاتی جمہوریت کو چلنے دیجئے اسے خود فیصلے کرنے دیجئے۔ وقت گزرے گا اور ایک دن طلوع صبح جمہور ہوکر رہے گی۔ مجھ سے طالب علم اور قلم مزدور کا معاملہ فقط یہ ہے کہ ہم دستور کیساتھ کھڑے ہیں، 1973ء کے پارلیمانی دستور کیساتھ۔ اسے کچھ ہوا تو بھوکی ڈائن کی طرح پہلا سوال ہوگا ’’کیا ہم اکٹھے رہ سکتے ہیں؟‘‘ ہماری بدقسمتی ہے کہ سیاست پر کاروباری طبقہ‘ بالادست اشرافیہ قابض ہیں لیکن اگر معاملات چلتے رہیں، ہم آگے بڑھتے رہیں تو وہ دن بھی آئیگا جب شخصیات کے بت ٹوٹ جائیں گے اور اکثریتی طبقات کے اندر سے اُجلی قیادت اُبھر کر سامنے آئیگی۔

بات فقط اتنی سی ہے اہل دانش ہوں‘ ادیب‘ شاعر اور قلم مزدور انہیں ہر حال میں دستور کیساتھ کھڑا رہنا ہوگا۔ ہمارے اساتذہ کرام کہا کرتے تھے 1973ء جیسا قومیتی اتفاق رائے دوبارہ نصیب ہونا بہت مشکل ہے ماسوائے اس کے کہ اکثریتی طبقات کے اندر سے روشن خیال قیادت اُبھر کر سامنے آئے اور وہ بدلتے ہوئے حالات وضرورتوں کا ادراک کرکے ایسی آئینی ترامیم کروا دے جن کی وجہ سے بالادست طبقات کی گرفت کمزور ہو‘ پاپائیت کا جبر ٹوٹے اور ادارے دستور کے تابع رہنے میں شرم محسوس نہ کریں۔ کبھی کچھ دوست اور سیاسیات سے دلچسپی رکھنے والے طلباء کہیں گفتگو کیلئے بلاتے ہیں تو لچھے دار باتوں سے جی بہلانے کی بجائے صاف عرض کر دیتا ہوں ریاست‘ نظام اور ادارں سے شکوہ کرنے سے قبل لمحہ بھر کیلئے یہ بھی تو سوچا جانا چاہئے کہ کیا تینوں کو اپنی حد میں رکھنے کیلئے ایک شہری کے طور پر جو فرض میرا اور آپ کا بنتا ہے وہ ادا کر پائے؟ یہی بنیادی سوال ہے۔ افسوس کہ ہم اس طرح کے یا فقط اسی ایک سوال کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ گھبراہٹ کس بات کی ہے، یہ ہمارا (یعنی ہم سب کا) ملک ہے جتنا ملک کا ہم پر حق ہے اتنا ہمارا ملک پر، تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ ریاست کے فرائض ہوتے ہیں تو شہریوں کی ذمہ داریاں بھی۔ شہریوں کا فرض ہے کہ وہ دستور‘ قانون‘ انسانی حقوق اور شرف انسانی سے متصادم کچھ بھی نہ ہونے دیں، ریاست کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کے مذہبی‘ سماجی‘ معاشی اور سیاسی حقوق کا احترام کرے، دونوں اپنے اپنے حصے کے فرائض دیانت سے ادا کرتے رہیں تو مسائل ایک ایک کرکے حل ہوتے چلے جائیں گے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص اس بات کو ایمان کا چھٹا رکن بنا لے کہ وہ دستور کیساتھ کھڑا رہے، اس سے کوئی کھلواڑ نہیں ہونے دیگا۔ حرف آخر یہ ہے کہ پیارے قارئین! یہ طالب علم تو دستور کیساتھ کھڑا ہے آپ فیصلہ کیجئے کہ کہاں کھڑا ہونا ہے اور کہاں کھڑے ہیں۔

متعلقہ خبریں