Daily Mashriq


بحران کا ذمہ دار کون؟

بحران کا ذمہ دار کون؟

سیاسی جماعتوں کے قائدین کیلئے بہت آسا ن ہوتا ہے کہ اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ سابق حکمرانو ں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دے لیں، کم ازکم پاکستان کی موجودہ تاریخ میں یہی ہوتا آیا ہے، سیاستدانوں کے اس طرزعمل سے کیا حقائق تبدیل ہو جائیں گے، کیا سیاستدان ایک دوسرے پر ناکامی کا ملبہ ڈال کر اپنے آپ کو حقیقی معنوں میں بھی بری الذمہ قرار دے سکتے ہیں؟ اگر سیاستدان موجودہ بحران کے ذمہ دار نہیں ہیں تو پھر وطن عزیز کے نامساعد حالات کا ذمہ دار کون ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے لوگوں کی اکثریت میں نظام کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں اور وہ نظام سے نالاں نظر آتے ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ جو نظام یہاں کئی دہائیوں سے رائج ہے اس میں لوگوں کا مختلف حوالوں سے استحصال کیا جاتا ہے۔ ہمیں لوگوں کی اس رائے کو محض جذباتیت کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ ارباب اختیار کو یہ سوچنا ہوگا کہ لوگ جو سوچ رہے ہیں اس کے پیچھے کیا حقائق ہیں اور وہ کون سے محرکات ہیں جو لوگوں کو اپنے ہی نظام سے نالاں یا لاتعلقی پر مجبور کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے سماجی اور معاشی شعبے کے سرکاری یا ریاستی اعداد وشمار دیکھیں تو ان میں ایک خوفناک محرومی اور پسماندگی کے گہرے بادل نظر آتے ہیں۔جب معاشروں کو چلانے کی بنیادی سوچ یا فکر میں طبقاتی تقسیم ہو تو لوگوں کو یکجا کرنا یا ان کیساتھ یکساں سلوک کرنا ممکن نہیں ہوتا اور یہ عمل لوگوں میں ریاست کی افادیت کو کمزور کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اسی طرح آج کی دنیا میں جدید ریاستوں کے جو تصورات ہیں یا جو ہم حکمرانی کے نظاموں میں نئے تجربات دنیا میں دیکھ رہے ہیں ان سے سیکھنے کے بجائے ہم پرانی، فرسودہ اور روایتی طرز پر مبنی سیاست اور حکمرانی کی مدد سے نظام کو چلائیں گے تو نتائج وہی ہوں گے جو آج دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ہمارے ہاں کے سب فریقوںکو یہ بنیادی نکتہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم جس بیمار اور لاچار نظام کو چلا رہے ہیں اس سے کوئی بڑی اور مثبت تبدیلی ممکن نہیں کیونکہ آپ کی نیت درست ہو اور آپ کچھ اچھی پالیسیاں بھی بنالیں، مگر جس عمارت یعنی سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کو بنیاد بناکر سب کچھ چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہی بڑا مرض ہے۔ عمومی طور پر سیاسی نظام میں سیاسی توقعات کا بنیادی مرکز بھی سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں۔ حکومت اور حزبِ اختلاف کی عملی سیاست قومی معاملات یا مفادات سے جڑی ہونی چاہئے لیکن ہماری سیاست انتشار، محاذ آرائی، نفرت، دشمنی، تعصب، منافرت، کردارکشی سمیت دیگر امراض سے جڑی ہوئی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے مزید غلطیوں کو پیدا کرنا ہی اپنی سیاست سمجھ لیا ہے۔ جب آپ سیاست میں کسی کے وجود کو ہی تسلیم نہ کریں چاہے آپ حکومت میں ہوں یا حزب اختلاف میں تو نظام کی درستی کا عمل مزید مشکل ہوجاتا ہے۔ ہماری سیاسی جماعتوں کو خاندانی سیاست کے نام پر داخلی جمہوریت سے جڑے ہوئے مسائل پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ اسٹیبلشمنٹ پر ضرور تنقید کریں اور ہونی بھی چاہئے لیکن خود اپنی سیاسی اداؤں اور طرزِعمل کا بھی تجزیہ کرنا چاہئے کہ موجودہ خرابیوں میں ہمارا اپنا کتنا حصہ ہے۔ جب سیاست عملی طور پر لوگوں میں اپنی ساکھ ہی قائم نہ کرسکے اور حکمرانی سے جڑے مسائل کو اپنی سیاست کی بنیاد نہ بنائے تو اس سے سیاسی نظام میں ایک خلا پیدا ہوتا ہے اور عملاً اس خلا کی موجودگی میں پس پردہ قوتیں زیادہ متحرک اور فعال ہوجاتی ہیں۔ اس لئے اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو سیاسی مداخلت کے تناظر میں کمزور کرنا ہے تو پھر اہلِ سیاست کو بھی اپنے اندر بہت کچھ تبدیل کرنا ہوگا۔ محض اسٹیبلشمنٹ پر الزام لگا کر مسئلے کا حل تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ اس کیلئے ہمیں خود بھی ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ درکار ہے کہ ہم بھی اپنا رویہ تبدیل کریں۔ ہم میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو طاقت رکھتے ہیں لیکن ان کی سوچ اور فکر مسائل کے حل کے بجائے ان میں اور زیادہ بگاڑ پیدا کرنے کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تبدیلی کا عمل آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی طرف جاتا ہے جو اس ریاستی نظام کیلئے سودمند نہیں ہوتا۔ عملی طور پر سیاست اور سماج کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے۔ سماج کی سطح پر ایک بڑی تبدیلی جو اہلِ دانش کی مدد سے پیدا ہوتی ہے اس کا فقدان ہے لیکن ہمیں مایوس ہونے کے بجائے یہ تسلیم کرکے آگے بڑھنا ہے کہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اس کو درست کرنے کیلئے اصلاحات پر مبنی سیاست درکار ہے۔ لیکن بہتر طور پر اصلاحات اسی صورت میں ممکن ہوتی ہیں جب سماج ایک بڑے دباؤ کی سیاست پیدا کرتا ہے۔ اسلئے دباؤ کی اس سیاست کو پیدا کرنے کیلئے رائے عامہ بنانے والے افراد کو ایک بڑے منظم کام کی ضرورت ہے اور یہ کام علمی وفکری تحریک کے بغیر ممکن نہیں ہوگا لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کام کرے گا کون؟ کیونکہ ہم جن سے یہ توقع کرتے ہیں کہ یہ لوگ یا ادارے بڑی تبدیلی کیلئے کلیدی کردار ادا کریں گے ان کو جھنجھوڑنا اور درست سمت میں ان کا چلنا بھی خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کیونکہ جب خود تبدیلی کے کارندے تبدیلی کے عمل میں رکاوٹ بن جائیں اور ایسے افراد یا اداروں سے گٹھ جوڑ کرلیں جو تبدیلی کے عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں، تو پھر تبدیلی کا عمل بہت پیچھے رہ جاتا ہے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اہل سیاست اپنی ذات سے بلند ہو کر ملک وقوم کے مفاد کو سامنے رکھ کر سوچیں اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ان کی سیاست بھی اس ملک کی بقا کی مرہون منت ہے، سیاستدانوں کو اپنے طرزعمل کا جائزہ لینا ہوگا اور یہ سوچنا ہوگا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس شاخ پر وہ بیٹھے ہوئے ہیں اسی کو دانستہ یا نادانستہ کاٹنے کا سبب بھی بن رہے ہیں؟۔

متعلقہ خبریں