Daily Mashriq

ایک دن عید ۔۔ پورے پاکستان میں

ایک دن عید ۔۔ پورے پاکستان میں

ہماری مذہبی اور پاکستانیت کی اقدار کا یہ حال ہے کہ ایک عام سی بات پر بھی لطیفہ بن جاتا ہے، ہم ایک محفل میں بیٹھے تھے ہمارے ایک نوجوان دوست کی شادی اور نکاح کی بات چل رہی تھی، بات یہاں آکر اٹک گئی کہ نکاح کس تاریخ کو ہو، ایک رائے آئی کہ نکاح رمضان کی27تاریخ کو ہونا چاہئے، لڑکی والے بضد تھے کہ نکاح 23رمضان کو ہو جبکہ لڑکے والے اس بات پر اَڑے تھے کہ نکاح 27رمضان کو ہی ہونا چاہئے، اسی بحث مباحثے میں ماحول کافی تلخ وناخوشگوار ہوگیا تو ایسے میں ایک صاحب نے لقمہ دیا کہ بھئی تاریخوں پر مت لڑیں، ہمارے ہاں رمضان کونسا ایک دن آتا ہے؟ یہاں تو ہر بار تین رمضان اور تین عیدیں ہوتی ہیں، جب تین رمضان شروع ہوں گے تو 27ویں بھی تین ہی ہوں گی اس پر ساری محفل کشت زعفران بن گئی، ٹینشن کا ماحول چھٹ گیا، سب کے سب حاضرینِ محفل ہنسنے لگے۔ درحقیقت یہ ہنسنے کا نہیں بلکہ رونے کا مقام تھا۔ سوچنے کا موقع تھا کہ مسلمانانِ عالم تو کیا ہمارے وطن عزیز میں ہماری یکجہتی کیا ہوئی وہ بھی ایک اسلامی مہینہ کے موقع پر۔ یہ ماہِ مبارک ہمیں تمام عبادتوں میں اجتماعات کا درس دیتا ہے مگر افسوس صد افسوس ہمارے ہاں رمضان ایک دن نہیں شروع ہوتا جس سے اجتماعات کا سارا مزہ کرکرا ہوکر رہ جاتا ہے، ساری کی ساری نیکیاں، سارے کے سارے اجتماعی ثواب کمانے کے مواقع گنوا دیتے ہیں۔ عام آدمی کی سوچ اور خواہش ہے کہ کب ایسا ہوگا، ہمارے وطن میں بھی رمضان المبارک کا پہلا روزہ ایک ہی دن رکھا جائے اور اس سے بھی بڑھ کر کہ تین عیدوں کی بجائے ایک ہی دن پورے پاکستان میں عید ہوگی، جو حقیقی معنوں میں عید ہوگی، پنجابی ، پختون، سندھی اور بلوچ کی عید ایک ہی دن ہوگی۔

کہیں اور یہ رسم یہ ریت یہ رواج ہو نہ ہو ہمارے صوبہ خیبر پختونخوا اور شہر پشاور میں تو ایک سے زیادہ عیدیں منائی جاتی ہیں، ایک عید ہمارے افغان بھائی مناتے ہیں کہ جو روزہ بھی سعودی عرب کیساتھ رکھتے ہیں اور عید بھی انہی کے مطابق مناتے ہیں چونکہ سعودی عرب میں ہم سے پہلے چاند نظر آجاتا ہے لہٰذا ان کی عید ہر بار ہم سے پہلے ہوتی ہے اور کبھی ایک دن پہلے اور اکثر اوقات دو دن پہلے، پھر اس کے بعد ہمارے محترم پوپلزئی صاحب ادھر پشاور میں مسجد قاسم علی خان سے پورے اہتمام کیساتھ اعلان کر دیتے ہیں۔ تیسری اور آخری عید باقی مانندہ پاکستان کی ہوتی ہے جس کو پورے پاکستان کی طرح پشاور شہر کی ایک بڑی تعداد اور پشاور کینٹ کی اکثریت مناتے ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم پشاور والے کتنی ازیت سے گزرتے ہیں، ہماری عید تو ہوجاتی ہے مگر پھیکی پھیکی سی، اُلجھی اُلجھی الگ تھلگ سی لیکن کیا کیا جائے کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑتا ہے۔

ہم نے بارہا بارگاہ ایزدی میں التجا کی! اے رب العالمین ہمیں وہ دن دکھا دے کہ ہم بھی پورے پاکستان میں ایک دن عید منائیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ دن ضرور آئیگا۔ سب کی یکجان ہوکر دعا ہے کہ یا اﷲ اس عظیم قوم کو پھر وہی اتحاد ویگانگت دے کہ نہ صرف ایک دوسرے کیلئے بلکہ پورے عالم اسلام کیلئے اخوت وبھائی چارے کا پیکر ہوں۔ یہ دیوانے کا خواب ہے نہ ہی یہ کوئی انہونی خواہش، یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ماضی میں دنیا میں کئی ایسی اسلامی ریاستیں گزری ہیں کہ جہاں ٹیکنالوجی کی شروعات ہوئی تھیں، ایجادات ودریافتیں یہاں سے ہوکر ساری دنیا میں پھیلی تھیں، یہاں زیادہ تفصیل میں جانے کی گنجائش نہیں ورنہ ان کے کارنامے بتاتے ہی چلے جاتے۔

بات سائنس اور ٹیکنالوجی کی آئی ہے تو اب کی بار وفاقی حکومت نے کچھ اس طرح کا اہتمام کیا ہے کہ چاند دیکھنے کو جدید سائنسی طرز پر کیا جائے، وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی نے باقاعدہ طور پر دعوت نامہ بھیج دیا ہے مفتی منیب الرحمن اور مفتی شہاب الدین پوپلزئی دونوں صاحبان کو اسلام آباد میں چاند کی گردش دیکھ کر چاند کے اصل مقام کا تعین کرسکیں، یوں چاند دیکھنے کیلئے اتنے پاپڑ نہ بیلنے پڑیں۔ وزارت سائنس وٹیکنالوجی موبائل ایپ پہلے ہی اعلان کرچکی ہے اور قمری کلینڈر کیلئے بھی کمیٹی کام کر رہی ہے۔ حکومت سائنسی کام کے مکمل کرنے پر رویت ہلال کمیٹی کو ختم کرنے کا عندیہ بھی دے چکی ہے۔

دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تحلیل اور چاند دیکھنے کی رٹ پر وفاق اور چیئرمین سے جواب طلب کرلیا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو چاند دیکھنے سے روکا جائے کیونکہ یہ کمیٹی پختونخوا کی کسی بھی شہادت کو نہیں مانتی۔ عدالت نے اگلی پیشی کیلئے 30مئی کا وقت دیا ہے۔ وفاقی حکومت کے اقدامات اور پشاور ہائی کورٹ کے کیس سے چلئے امید رکھی جاسکتی ہے کہ رمضان المبارک پورے پاکستان میںتو ایک ساتھ شروع نہیں ہوسکا لیکن پھر سے اس وطن میں بھرپور عید منائے جائے گی۔ پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ۔

متعلقہ خبریں