Daily Mashriq

شامل رہا خوشی میں کسی بے بسی کا شور

شامل رہا خوشی میں کسی بے بسی کا شور

کہتے ہیں کہ سگریٹ کے ایک سرے پر جلتے تمباکو کا انگارہ یا اس کی جلتی راکھ ہوتی ہے جبکہ اس کے دوسرے سرے پر اس بے وقوف کے ہونٹ ہوتے ہیں جو سگریٹ کے کش لگا کر اس کے مرغولوں کو فضا میں تحلیل کرکے فضائی آلودگی کا باعث بنتا رہتا ہے اور جانے کیوں اپنی اس بری عادت اور نقصان دہ لت یا علت کو اپنی لائف سٹائل کہہ کر اپنے آپ کو دھوکہ دیتا رہتا ہے۔ سگریٹ یا تمباکو نوشی کے حوالہ سے یہ باتیں ہمیں آج اس لئے یاد آرہی ہیں کہ آج مئی کے مہینے کی 31تاریخ ہے اور پاکستان سمیت ساری دنیا میں انسداد تمباکو نوشی یا تمباکو نوشی سے انکار کا دن منایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے1987 میں اس دن کو منانے کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد دنیا والوں کو سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے کے علاوہ ان کو اس عادت بد سے روکنا تھا اور ایک رپورٹ کے مطابق تب سے اب تک اس کوشش کے نتیجے میں دنیا بھر میں تمباکو نوشی کی علت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

واللہ کسی شوق کے مارے نہیں پیتا

پیتا ہوں اس لئے کہ جل جائے جوانی

یہ شعر ہم نے سگریٹ کے مرغولے پھونکنے والے ایک نوجوان کے کالے ہونٹوں سے ادا ہوتے سنا تھا۔ سگریٹ کے دھویں یا اس کو پھونکتے رہنے کی عادت نے نہ صرف اس کے ہونٹوں کی لالی کو سیاہی میں بدل رکھا تھا بلکہ اس کی ہتھیلی کی ان دو انگلیوں کے درمیانی حصوںکو بھی داغدار بنا رکھا تھا جس میں وہ سگریٹ پکڑ کر بڑے سٹائل سے ہونٹوں تک لے جاتا اور سگریٹ کا کش لگانے کے بعد اک ادائے احمقانہ کیساتھ چٹکی بجا کر سگریٹ کی راکھ ایش ٹرے کے علاوہ ادھر ادھر پھینک کر فضائی آلودگی کے علاوہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ کرتا رہتا۔ ہم نے تمباکو نوشوں کے متعلق یہ عجیب سا جملہ بھی کسی دانشمند سے سن رکھا تھا کہ تمباکو نوش لوگ کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔ وجہ پوچھی تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ اس لئے بوڑھے نہیں ہوتے کہ تمباکو نوشی کی علت یا تمباکو نوشی کا زہر انہیں جوانی ہی میں آن گھیرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں کم وبیش ایک ارب سے زائد مرد وزن تمباکو نوشی کی علت کا شکار ہیں جن میں سے ہر سال پانچ اعشاریہ چار ملین لوگ تمباکو نوشی کے سبب مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی کے عادی افراد صرف سگریٹ ہی کے ذریعے تمباکو کا دھواں اپنے پھیپھڑوں میں داخل کر کے مرگ ناگہاں کا تر نوالہ نہیں بنتے تمباکو کا استعمال چلم اور حقہ کے ذریعہ بھی کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں حجرے میں چلم اور پنچایت میں حقہ کو لازم وملزوم قرار دے کر اسے ہماری ثقافت کا حصہ قرار دے دیا ہے۔ حجرہ کلچر کو چلم کی موجودگی کے بغیر نامکمل سمجھتے تھے اور حجروں میں اس لئے جانا پسند کرتے تھے کہ وہاں ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے کے مصداق مفت میں تمباکو نوشی کے مواقع مل جاتے تھے۔ اگر چلم میں تمباکو استعمال ہوتا تو حقہ میںگڑاکو استعمال کیا جاتا جو ’الوگڑ اور تمباکو‘ کے آمیزے سے تیار ہوکر بازاروں میں بکتا تھا۔ کسی زمانے میں گلی گلی چلم تمباکو کی دکانیں ہوتی تھیں جن میں چلموں اور حقوں کی ورائٹی کے علاوہ ان کی جزئیات مثلاً نیچے ٹوپیاں اور اس قبیل کی دیگر قباحتیں بھی بکتی تھیں۔ ان ہی دکانوں پر نسوار بھی فروخت ہوتی تھی جو تمباکو اور راکھ وغیرہ کا آمیزہ ہوتی مگر محکمۂ صحت اور عالمی ادارہ صحت کی جہد مسلسل سے تمباکو کی صنعت سے وابستہ کاروبار ایک قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔ بس یادیں رہ گئی ہیں اس دور کی جب تمباکو کی زرخیز فصل اور اس صنعت سے لاکھوں کمائے جاتے تھے۔ ہمیں شعر وسخن کی وہ محافل اچھی طرح یاد ہیں جن میں شعر پڑھنے، سننے والے کم وبیش سارے ہی شرکائے محفل انگلیوں میں جلتا سگریٹ دبائے مشاعرہ گاہ کو دھواں دھار بنائے رکھتے جیسے سگریٹ کے بغیر سخن وری کیخلاف ہو

کمرے میں پھیلتا رہا سگریٹ کا دھواں

میں بند کھڑکیوں کی طرف دیکھتا رہا

موجودہ حالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کے دل کی مراد بھر آئی ہے سگریٹ نوشی کا وہ زمانہ لدھ گیا جب لوگ فیشن سمجھ کر سگریٹ سلگاتے تھے اور پھر اس کے اس قدر عادی ہو جاتے کہ اس کے بغیر ان کے دماغ میں چڑچڑاپن آجاتا۔ کتنا بدتمیز بنا دیا تھا مجھے سگریٹ پھونکنے کی عادت نے، جب بھی کوئی سکرپٹ لکھنے بیٹھتا سگریٹ سلگا لیتا

گریباں چاک دھواں، جام، ہاتھ میں سگریٹ

شب فراق، عجب حال میں پڑا ہوا ہوں

ایک بار ریڈیو کیلئے کچھ لکھتے وقت سگریٹ سلگا لیا تھا، نہایت شریف النفس سٹیشن ڈائریکٹر تھے وہ جنہوں نے میری سگریٹ نوشی پر اعتراض کیا اور میں ان کے اس اعتراض کے جواب میں کہنے لگا کہ کوئی کوئی پی سکتا ہے سگریٹ، عارضۂ قلب میں مبتلا تھے وہ بے چارے اس لئے اپنے لبوں پر خاموشی کا سٹکر چپکائے واپس لوٹ گئے۔ جس کا انجام مجھے جلد نہیں تو بدیر ہی سہی ملا ضرور۔ محکمۂ صحت پاکستان کی جانب سے ہر سگریٹ کی ڈبیا پر خبردار سگریٹ مضر صحت کا جملہ لکھ کر پینے والوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ تمباکو نوشی سے اجتناب کریں، لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ تمباکو نوشی سے کئی گنا زیادہ خطرناک عفریت ہماری نوجوان نسل کو منشیات کی دلدل میں دھکیل کرتمباکو نوشی کیخلاف منائے جانے والے اس دن کا مذاق اُڑا اُڑا کر ہمیں کہنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ

ہیں قہقہے کسی کے کسی کی سسکیاں

شامل رہا خوشی میںکسی بے بسی کا شور

متعلقہ خبریں