Daily Mashriq


پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی

پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی

سری لنکا کے خلاف حالیہ ٹی ٹونٹی سیریز میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی شاندار رہی جس کا سہرا کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان منتظمین اور کھلاڑیوں کا چنائو کرنے والوں کے سر جاتا ہے جنہوں نے ایک متوازن ٹیم چنی۔ پاکستان میں عالمی کرکٹ کی واپسی کے ساتھ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بھی عالمی کرکٹ میں واپسی اہل وطن کے لئے اطمینان کا لمحہ ہے۔ کھلاڑیوں کی اچھی کارکردگی اور نیا ٹیلنٹ سامنے آنا ملک میں کرکٹ کے فروغ کا باعث ہوگا جسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ کا باقاعدہ آغاز اور میچوں کا انعقاد پاکستان کرکٹ ٹیم کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کامیابی سے کہیں بڑھ کر خوش آئند اور پر مسرت امر ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے اگر میچ جیتے تو سری لنکا کی ٹیم پاکستانیوں کا دل جیت کر لے گئی جو پاکستانی ٹیم کی کامیابی سے کہیں بڑھ کر کامیابی ہے۔پاکستان کرکٹ کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ آٹھ سال بعد یہاں وہی ٹیم کرکٹ کی بحالی کے لیے پہلا قطرہ ثابت ہوئی ہے جس پر حملے کے سبب یہ سلسلہ ٹوٹا تھا۔ اگر پاکستان میں میچ ہونے لگ جائیں تو بہت جلد پاکستان کا دنیا کی بہترین ٹیموں میں شمار ہونے لگے گا۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد سمیت پوری قوم پاکستان آمد پر سری لنکن ٹیم کی شکر گزار ہے۔ سری لنکن ٹیم کے کپتان تھیارا پریرا کا کہنا تھا کہ ان کے لئے دوبارہ پاکستان آنا بہت خوشی کی بات ہے۔ واضح رہے کہ 2009ء میں دہشت گردوں کے حملے کے وقت بس میں موجود گروسنہا اور ہشان تلکارتنے بھی سری لنکن ٹیم کے ہمراہ لاہورپہنچے جبکہ گولیوں سے زخمی ہونے والے امپائراحسن رضا نے ٹی ٹوئنٹی میچ سپروائز کیا۔جو بڑے عزم و حوصلہ اور دل گردے کا کام ہے۔ادھرپاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان آنے کی حامی بھر چکی ہے دیگر ٹیموں کی آمد کی بھی توقع ہے۔ امید ہے 2020تک کرکٹ کھیلنے والے ہر ملک کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرچکی ہوگی۔سری لنکن کرکٹ بورڈ کے صدر سماتھی پالا کا کہنا تھا کہ پاکستان آ کر بہت خوش ہیں۔ہم یہاں شائقین کیلئے آئے ہیں اور دوبارہ بھی آئیں گے، پاکستان کرکٹ کا ایک بہت بڑا ملک ہے، اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔صدر ایس سی بی کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا برادرملک ہے، اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتے جبکہ حالیہ ایونٹ کے لیے پاکستان نے سیکورٹی کے بہترین انتظامات کیے ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ ہم مستقبل میں بھی پاکستان کا دورہ کرتے رہیں گے، دنیا کو دعوت دیتے ہیں وہ بھی پاکستان آکرکھیلیں۔صدر سری لنکن کرکٹ بورڈ کا مزید کہنا تھا کہ سری لنکن ٹیم مضبوط ہے اور تشارا پریرا اچھے کپتان ہیں ۔خیال رہے کہ 3 مارچ 2009 کو سری لنکن ٹیم پر لاہور کے لیبرٹی چوک میں دہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا، جس کے بعد سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند ہوگئے تھے۔پاکستان کی ٹیم کی حالیہ میچوں میں کارکردگی بہت شاندار رہی۔ کرکٹ کے تینوں شعبوں بیٹنگ‘ بائولنگ اور فیلڈنگ میں کھلاڑیوں نے عمدہ کارکردگی دکھائی ہے خصوصاً بائولنگ کا شعبہ جو ہمیشہ سے مضبوط رہا ہے اس میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔سرفراز جس طرح اس اٹیک کو استعمال کر رہے ہیں، وہ مختصر فارمیٹ کے کسی بھی کپتان کے لیے آئیڈیل ہو گا۔پاکستان کے بینچ پر اس وقت صرف یہ بہترین بولنگ اٹیک ہی نہیں ہے بلکہ انہی میں نہایت شاندار آل رائونڈرز بھی موجود ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ وہ بڑے شاٹس کھیل سکتے ہیں بلکہ عمر اور تجربے کے اعتبار سے ان کی ذہنی پختگی بھی حیران کن ہے۔ پچھلے میچ میں جس طرح شاداب نے آخری دو گیندوں پہ پاکستان کو منجدھار سے نکالا اورفہیم اشرف نے جیسے آخری اوور کا بھرپور فائدہ اٹھایا، ایسے میں یہ ثابت کرنے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں رہتی کہ یہ اس دور کے شاندار آل رانڈرز ہیں۔بیٹنگ ہمیشہ پاکستان کی کمزوری رہی ہے۔ لیکن جب سے بابر اعظم آئے ہیں، پاکستان کے بیٹنگ یونٹ پر کبھی اضطراب دیکھنے کو نہیں ملا۔ شعیب ملک اپنے کریئر کی بہترین فارم میں ہیں۔ فخر زمان اس سیریز میں ذرا مختلف دکھائی دیے لیکن چیمپیئنز ٹرافی جیسے گلوبل ایونٹ میں بھارت جیسے حریف کے خلاف میچ وننگ اننگز کھیل کر یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ بڑے میچ کے پلیئر ہیں۔بھارت کے خلاف چیمپیئنز ٹرافی کے پہلے میچ کو منہا کر کے دیکھیں تو یہ یاد نہیں پڑتا کہ پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران مختصر فارمیٹ میں کبھی ایسا بھی ہوا ہو گا کہ پاکستان ٹیم آل آئوٹ ہوئی ہو۔اور اگر اس بہترین کمبی نیشن کو صحیح معنوں میں ہوم کرکٹ ملنا شروع ہو جائے، اگر یہ بھی پاکستان میں اتنے ہی میچز کھیلنے لگ جائیں جتنے بھارت کھیلتا ہے تو ان کی پرفارمنس میں مزید نکھار آ جائے گا۔لاہور میں یکے بعد دیگرے پر امن میچوں کا اہتمام کھلاڑیوں اور شائقین کا نظم و ضبط اور جوش خروش سب ان اقدامات کا نتیجہ ہیں جو ملک سے دہشت گردی کو جڑوں سے اکھاڑ کر پھینکنے کے لئے اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ یہ ان اقدامات ہی کا نتیجہ ہے جو پاکستان میں عالمی کرکٹ کی واپسی و بحالی کا سبب بنے۔

متعلقہ خبریں