Daily Mashriq


سعودی عرب اب برادر اسلامی ملک نہیں رہا

سعودی عرب اب برادر اسلامی ملک نہیں رہا

کہنے کو تو سعودی عرب اور پاکستان برادر اسلامی ممالک ہیں لیکن سعودی عرب میں پاکستانیوں کے ساتھ سلوک اس کی سراسر نفی رہی ہے۔ سعودی عرب کی پاکستان کے حوالے سے امیگریشن اور ورک پالیسی پہلے ہی امتیازی تھی پاکستانیوں پر بھارت اور بنگلہ دیش کے علاوہ دیگر کئی ممالک کے باشندوں کو ویزے دینے سے لے کر امیگریشن کے مراحل اور حالات کار سبھی میں ترجیح رہی ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ بدلتے حالات اور پاک سعودی تعلقات کی نوعیت میں تبدیلی کے باعث اب سعودی عرب پاکستانیوں کو سرے سے اپنے ملک میں بلانے اور رکھنے پر آمادہ نہیں۔ تلاش روز گار و کاروبار کے معاملات کو ایک طرف رکھ کر دیکھا جائے تو سعودی عرب نے پاکستانی معتمرین سے بھی انتہائی ہتک آمیز سلوک شروع کردیا ہے۔ پاکستانی معتمرین کے لئے ویزے کی درخواست سے قبل فنگر پرنٹ کی جو شرط رکھی گئی ہے اس کا سیکورٹی اور انتظامی غرض کسی طور پر کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت تھی۔ یہ شرط کسی اور ملک کے لئے نہیں صرف پاکستانی معتمرین کے لئے رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی پاکستانی معتمرین کی حوصلہ شکنی کے لئے کئی قسم کی مالیاتی شرائط لاگو ہیں جس سے یہ تاثر لینا غلط نہ ہوگا کہ سعودی عرب جو پہلے ایرانی عازمین حج سے معاندانہ سلوک کرتا رہا ہے اب وہ پاکستانی عازمین حج اور معتمرین کو بھی نا پسندیدہ گرداننے لگا ہے۔ ایک برادر اسلامی ملک کا اس طرح کا رویہ اور اللہ کے مہمانوں سے یہ سلوک کس قدر افسوسناک ہے اس کا ہر کسی کو اندازہ ہے۔ جہاں تک روز گار اور کاروبار کے لئے جانے والوں سے قوانین کی پابندی کا سوال ہے یہ متعلقہ ملک کا حق بنتا ہے لیکن کسی خاص ملک کے باشندوں کے لئے کچھ اور قوانین اور بعض ممالک کے لئے کچھ اور قوانین نہیں ہونے چاہئیں بلکہ سب سے یکساں سلوک ہونا چاہئے۔ پاکستانیوں کی سعودی عرب میں کام کرنے کی حوصلہ شکنی ان اعداد وشمار سے بخوبی واضح ہے جس کے مطابق سب سے زیادہ ایک لاکھ 13ہزار افراد سعودی عرب سے نکالے گئے۔ رواں برس جنوری سے جون تک ملازمت کے لئے صرف 77ہزار چھ سو افراد سعودی عرب گئے جبکہ 2016ء میں یہ تعداد 4لاکھ 62ہزار سے بھی زائد تھی۔ 2012ء سے 2017ء تک کے دوران بیرون ملک جانے والے افراد کی تعداد پر نظر ڈالیں تو یہ 41لاکھ 87ہزار 195 تھی۔ گویا 2012ء کے بعد سے روزگار کی غرض سے سعودی عرب جانے والے افراد کی تعداد میں مسلسل کمی اور واپس آنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف نوکر پیشہ پاکستانی ہی واپس نہیں آرہے بلکہ چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والے پاکستانیوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی حکومت نے بینکوں‘ موبائل کمپنیوں اور کئی شعبوں میں پہلے ہی سو فیصد سعودی افراد کو بھر دیا ہے۔ اب دوسرے شعبوں میں بھی مقامی افراد کو بھرتی کیا جا رہا جس کی وجہ سے پاکستانیوں کی وطن واپسی میں ہر ماہ اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی حکومت کو جہاں اس نا انصافی پر غور کرنے کی ضرورت ہے وہاں پاکستان کی وزارت خارجہ کو ان مسائل کو بھرپور طریقے سے اٹھانے میں کسی مصلحت کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ اگر سعودی حکومت کا یہی رویہ رہا تو بہت جلد پاکستان اور سعودی عرب برادر اسلامی ملک کی بجائے حریف اسلامی ممالک بن جائیں گے۔ خواہ حکومتی سطح پر کچھ بھی کیاجائے عوام کی سطح پر سعودی عرب کوکوئی بھی برادر اسلامی ملک قبول کرنے پر تیار نہ ہوگا۔

محکمہ صحت کے لئے جگ ہنسائی کا باعث معاملہ

بٹ گرام کے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ایک سابق بیوروکریٹ کے جنرل کیڈر کے گریڈ سترہ کے ڈاکٹر کو غیر قانونی ایم ایس لگانے کے ساتھ ساتھ ڈی ڈی او کے اختیارات بھی تفویض کرنا حیران کن اور میرٹ کی سراسر خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ سینئر گریڈ کے ڈاکٹروں کی اس کی ماتحتی ان کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ محکمہ صحت نے ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کے لئے انتظامی کیڈر کا گریڈ انیس اور 20 لازمی کر رکھا ہے۔ بتایاگیا ہے کہ مذکورہ ڈاکٹر صرف دوسال کا تجربہ رکھتے ہیں اس کے باوجود محکمہ صحت کے سیکرٹریٹ سے اسے ایم ایس لگا دیاگیا ہے۔ یہ تعیناتی محکمہ صحت کے سیکرٹریٹ سے کی گئی ہے گزشتہ پانچ ماہ سے مذکورہ ڈاکٹر ایم ایس کے اختیارات استعمال کر رہاہے اور محکمہ صحت خاموش تماشائی کاکردار ادا کر رہا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ سابق بیوروکریٹ کے اثر و رسوخ کے سامنے موجودہ حکومت کی میرٹ پالیسی اور سرکاری قواعد و ضوابط کی کوئی حیثیت نہیں۔ معاملے کے میڈیا میں افشاء کے بعد بہتر ہوگا کہ مذکورہ ڈاکٹر از خود ایم ایس کا عہدہ چھوڑ دے یا محکمہ صحت اس سے یہ عہدہ واپس لے یا پھر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور صوبائی وزیر صحت میں سے کوئی اس کا سختی سے نوٹس لے اور سینئر گریڈ کے کسی ڈاکٹر کی فوری طور پر ایم ایس تعیناتی کو یقینی بنوائیں۔

متعلقہ خبریں