Daily Mashriq


سگریٹ نوشی اور ٹاک شوز‘ مضر صحت

سگریٹ نوشی اور ٹاک شوز‘ مضر صحت

مقام شکر ہے کہ وزیر داخلہ احسن اقبال کو بالآخر عوام کی صحت کاخیال آہی گیا ہے۔ وگرنہ تو نہ جانے کب سے وفاقی حکومت ہو یا پھر صوبائی حکومتیں انہیں بے چارے عوام کی صحت کی بہتری سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ دعوے البتہ بہت کئے جاتے ہیں کہ حکومت نے وفاقی اور صوبائی بجٹوں میں اتنی رقم مختص کردی ہے مگر ان دعوئوں کے ثبوتوں کے حوالے سے واضح آثار کم ہی نظر آتے ہیں۔ تاہم اب جو تازہ بیان وفاقی وزیر داخلہ نے دیاہے اس میں عوام کی صحت کے حوالے سے تشویش کااظہار واضح اور نمایاں دکھائی دیتا ہے لیکن اس تشویش کے اظہار کے بعد بال بہر صورت وفاقی حکومت کے کورٹ میں جا پہنچا ہے یا پھر وزیر موصوف نے خود ہی اسے اپنے ہی کورٹ میں پہنچا دیاہے اوراب اس کا علاج بھی خود وفاقی حکومت کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ موصوف نے گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رات کے وقت ٹاک شوز عوام کی صحت کے لئے اچھا نہیں ہے کیونکہ ٹی وی ٹاک شوز میں صرف پاکستان کی تباہی‘ بربادی کی تصویر ہی پیش کی جاتی ہے اس لئے رات کو ٹاک شوز دیکھنا عوام کی صحت کے لئے مضر ہے۔ گویا یہ جو عرصہ دراز سے سگریٹ کے پیکٹوں پر انگریزی میں ایک جملہ لکھنے پر متعلقہ سگریٹ ساز کمپنیوں کو مجبور کیا جا چکا ہے اور وہ الفاظ یہ ہیں کہ Smoking is injurious to health یعنی سگریٹ نوشی صحت کے لئے مضر ہے تو اسی طرز پر اب وزیر داخلہ نے رات کے وقت نشر ہونے والے ٹاک شوز کو بھی عوام کی صحت کے لئے مضر قرار دے دیا ہے۔ البتہ انہوں نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ ان ٹاک شوز کا بھی تعلق سگریٹ کے دھویں کی طرح ٹی بی‘ کینسر وغیرہ سے ہے یا پھر کچھ اور۔ اگرچہ بہ نظر غائر جائزہ لیا جائے تو د ونوں میں قدر مشترک لفظ ’’ دھواں‘‘ ہی ہے یعنی سگریٹ پھونکنے سے دھواں خارج ہوتا ہے جو ماحول کو پراگندہ کرنے کے ساتھ ساتھ پینے والے کی صحت پر خطر ناک اثرات مرتب کرتا ہے۔ پھیپھڑوں پر داغ لگ جاتے ہیں جو کئی خطرناک بیماریوں کا باعث بنتے ہیں جبکہ ٹاک شوز میں شرکاء ’’دھواں دھار‘‘ بحث کرکے عوام کے لئے ذہنی اذیت کاباعث بنتے ہیں اور بحث سے برآمد ہونے والا ’’دھواں‘‘ عوام کو فکری امراض کا شکار کردیتا ہے اور بندے کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

چونکہ عالمی سطح پر تمباکو کے دھوئیں کو صحت عامہ کے لئے انتہائی مضر قرار دیتے ہوئے نہ صرف سگریٹ ساز کمپنیوں کو اس بات کا پابند کیاگیا کہ وہ سگریٹ کے پیکٹوں پر انگریزی اور ازاں بعد ہر ملک میں رائج وہاں کی زبانوں میں ’’ سگریٹ نوشی صحت کے لئے مضر ہے‘‘ کے الفاظ چھاپیں بلکہ اب اس میں مزید اضافہ کرکے پیکٹوں پر کینسر کے اثرات والے چہرے چھاپنے پر مجبور کیاگیا۔ یہاں تک کہ اب انگریزی فلموں میں جن مناظر میں سگریٹ نوشی دکھائی جاتی ہے ان مناظر کے اوپر Smoking kills یعنی سگریٹ نوشی سے موت واقع ہوتی ہے کہ الفاظ لکھے ہوئے آتے ہیں جبکہ عالمی سطح کی بڑی سگریٹ ساز کمپنیاں پہلے کھیلوں یعنی فٹ بال‘ کرکٹ‘ ٹینس‘ باکسنگ وغیرہ وغیرہ کی سرپرستی کرتی تھیں اور اربوں ڈالر اشتہارات اور کھیلوں کے انعقاد پر خرچ کرتی تھیں مگر اقوام متحدہ نے ان پر پابندیاں لگائیں تو اب کھیلوں کی سرپرستی کے لئے مشروبات کی عالمی کمپنیاں پیش پیش ہیں جبکہ سگریٹ سازکمپنیوں کو اس میدان سے باہر کردیاگیا ہے۔اتنا لمبا چوڑا بلکہ طویل پس منظر بتانے کے بعد وزیر داخلہ کے بیان کی طرف آتے ہیں اور جیسا کہ اوپر کی سطور میں گزارش کی گئی ہے کہ جس ’’مضر صحت‘‘ مسئلے کی جانب اشارہ کیا انہوں نے کہا کہ اس کا علاج بھی حکومت کی ذمہ داری ہے یعنی سگریٹ نوشی کا توڑ تو عالمی سطح پر نکال لیا گیا ہے لیکن اس ’’دھواں دھار‘‘ بحث مباحثے کا علاج بہت ہی مشکل ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے کہ اشتہار بازی پر پابندی‘ کھیلوں کی سرپرستی روکنے‘ سگریٹ کے ڈبوں پر وارننگ درج کرنے کے باوجود لوگ اب بھی سگریٹ نوشی سے باز نہیں آتے۔ اسی طرح اگر حکومت نے ان ٹاک شوز پر پابندی لگا بھی دی تو پہلے تواسے اظہار رائے پر قدغن سے تعبیر کرکے حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا جائے گا اور جو لوگ پہلے ہی حکومت پر تنقید کرکے طرح طرح کے الزامات عائد کر رہے ہیں ان کے لہجے میں مزید سختی آجائے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے یہ جو ایک ٹرائیکا کا تذکرہ کیا ہے جس میں بقول ان کے ’’ ناکام سیاستدان‘ کچھ ریٹائرڈ فوجی اور بعض صحافی‘‘ شامل ہیں۔ ان کے تیور مزید تیکھے ہو جائیں گے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ بعض ریٹائرڈ فوجی تو ہاتھ دھو کر حکمران جماعت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جبکہ ٹی وی اینکرز تو واضح طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہوچکے ہیں اور وہ اپنے پروگراموں میں خصوصاً ان لوگوں کو بلوا کر بحث میں شامل کرتے ہیں جو موجودہ حکومت کے خلاف ایسا تاثر قائم کر سکیں کہ حکومت بمشکل ہی اپنی مدت پوری کرسکتی ہے اور جہاں تک سیاستدانوں کا تعلق ہے تو ان کا تو مطمح نظر ہی یہ ہے کہ کسی طور حکومت کو وقت سے پہلے چلتا کیا جائے تاکہ ان کی ’’امیدیں‘‘ بر آئیں۔ لیکن اسے کیا کہا جائے کہ حالات ابھی اس نہج پر نہیں پہنچے جہاں امید لگانے کی گنجائش ہو بقول مرزا غالبؔ

کوئی امید بر نہیں آتی

کوئی صورت نظر نہیں آتی

متعلقہ خبریں