Daily Mashriq


سب دھوکے باز ہیں !!

سب دھوکے باز ہیں !!

اس ملک کے سیاست دانوں کی اکثریت ایسی ہے کہ جب وہ کوئی بات کرتے ہیں تو ان کی ایک معمولی سی بات بھی سازش دکھائی دیتی ہے ۔ ان کا گزشتہ ریکارڈ ہی ایسا ہے ۔ اس ملک سے ان کی دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ جانے ہم کیسے لوگ ہیں کہ انہیں دیکھتے ، سمجھتے ہوئے بھی ہم ان کی بات بھی سن لیتے ہیں، انہیں بات کرنے کا موقع بھی دیتے ہیں۔ شاید یہی آزادی ہے، آزادی اظہار رائے ہے ۔ جس کا ہم مسلسل پر چار بھی کرتے ہیں۔ دعویدار بھی رہتے ہیں۔ جب بھی الطاف حسین کو اس ملک میں آزادی اظہار رائے ملتی ہے۔ میں حیران ہوتی ہوں کہ وہ شخص جو قاتل ہے اور ہم میں سے کسی کو اس حوالے سے کوئی شک نہیںہے جو ملک دشمن ہے اور ہم سب جانتے ہیں جس کے راستے روابط ثابت ہو چکے ہیں لیکن اس سب کے باوجود ہم میں سے کوئی یہ کہنے کی جرأت نہیں کرتا کہ ہم ایسے لوگوں کی تو شکل دیکھنے کے روادار نہیں۔ وہ آزادی جس کی قیمت عام لوگوں نے اپنے خون کے ڈھالے سکوں سے ادا کی تھی، اس آزادی کا اصل مزہ تو ان لوگوں نے اٹھایا جو اس ملک کے وفادار ہی نہ تھے ۔ بات چند لوگوں تک موقوف رہتی تو شاید اتنا افسوس نہ ہوتا یہاں تو ہر دوسرے سیاست دان کی یہی کہانی ہے اور ان سب میں سے کوئی بھی نہ اس ملک سے محبت رکھتا ہے نہ ہی اس قوم کا خیر خواہ ہے۔ ان کے لئے یہ ملک بس ذاتی مفادات کے حصول کے مواقع سے لبریز ایک ایسی خاموش جھیل ہے جس میں وہ اپنے لیے جتنا بھی شکار کرتے رہیں، کسی جانب سے احتجاج کی کوئی لہر نہیں اٹھتی۔ کہیں سے کوئی عوام نام کے پر ندے شور مچاتے اڑ نہیں جاتے۔ کبھی جھیل کا پانی دھند لا نہیں ہوتا کہ انہیں مفاد کی مچھلیاں شکار کے لئے صاف صاف نہ دکھائی دیں۔ یہ بس اپنے کام میں مشغول رہتے ہیں۔ ان سیاست دانوں کے کتنے ہی نام ہیں لیکن ان کے کام ایک ہی جیسے ہیں، ان کی جستجو کی منزل بھی ایک ہی ہے۔ ان کے اپنے اپنے نام ہیں۔ یہ سب بھول جاتے ہیں اس ملک سے وفاداری، خود اپنا ہی سیاسی مستقبل، عوام کی مجبوریاں، کسی مظلوم کی آہ لگنے کا خوف، بس ہمیں لوٹنا نہیں بھولتے۔ ایک اور قسم کے بھی سیاست دان ہیں جو ایک الگ ہی زمرے میں آتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جنہیں شاید لوٹنے میں وہ دلچسپی نہ ہوں جو نقصان پہنچا نے میں ہو۔ یہ اس ملک کو، اس کی بنیاد کو، اس کی اساس کو، اس کے پندار کو نقصان پہنچا کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ان کے لہجو ں اور رویوں کی نفرت اور ملک دشمنی کی خواہش ہمارے ذہنوں میںبھی راسخ ہے لیکن جانے کیا سحر ہے کہ ہم ان سے منہ نہیں موڑتے۔ اسفند یار ولی کو ڈیورنڈ لائن کی یاد پھر ستانے لگی ہے۔ جب بھی وہ کوئی بات کرتے ہیں تو ان کے آباء کی تاریخ میری نگاہوں کے سامنے گھومنے لگتی ہے۔ ابھی تک ہم میں سے کوئی بھی کچھ نہیں بھولا، اور اگر کچھ باتیں بھول رہی ہوں تو جمعہ خان صوفی کی کتاب دوبارہ پڑھ لینی چاہئے۔ یہ سب ہم کیسے بھول جاتے ہیں جب میں اسی سال کے آغاز میں حامدکرزئی کا بیان پڑھتی ہوں جس کا خیال ہے کہ ڈیورنڈ لائن ایک لکیر کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور اسفندیار کا آج کا یہ خیال ہے کہ ابھی ڈیورنڈ لائن کا کام نامکمل ہے۔ ان کیلئے تو کبھی ڈیورنڈ لائن کا کام مکمل ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ایسا ہی چاہتے ہیں۔ یہ ڈیورنڈ لائن کو ایک مسئلہ دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کی خواہش، ان کا مفاد انہیں اس کیلئے مجبور کرتا ہے، ذرا سوچیں۔ دل و دماغ کھولنے لگتا ہے جب یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے مقاصد کا اظہار یہ لوگ اتنی آسانی سے ا یسی روانی سے کرتے ہیں اور ہم کچھ نہ سمجھتے ہوئے بس خاموشی سے سب سن لیتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ ڈیورنڈ لائن کا کام کیسے مکمل نہیں۔ ہر سرحد پر دیوار نہیں بنائی جاتی جس سے ثابت ہو سکے یہ سرحد ہے۔ یہ دیوار جو آج بنائی گئی ہے اس کے بنائے جانے کی وجوہات بھی ہم سب جاتے ہیں اور یہ بات جو کہی جارہی ہے کہ ضیاء الحق کے دور میں یہ کام شروع تو ہوا لیکن مکمل نہ ہوسکا، اس بات میں در اصل کیا راز پوشیدہ ہے اس کو تلاش کرنے کیلئے کسی کھوجی کی ضرورت نہیں، بس ذرا سی آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے۔ ہم دیکھنے کے خواہشمند ہوں تو ہر ایک بات صاف صاف کھائی دے گی لیکن ہم دیکھنا ہی تو نہیں چاہتے۔ ہم سر جھکائے بس اپنے مسائل میں گم رہنا چاہتے ہیں بجلی کے مسائل، پانی کے مسائل، بلوں کے مسائل اور وہ جو مرضی کہیں ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔ 

متعلقہ خبریں