Daily Mashriq


قومی نوحہ

قومی نوحہ

قائد اعظم نے حصول پاکستان کی جدوجہد ایک اعلیٰ و ارفع مقصد کو سامنے رکھ کر کی تھی۔اس مقصد کی ابتدا اگر ایک اسلامی نظریاتی ریاست تھی تو انتہا ایک ایسی فلاحی ریاست جس میں بسنے والی ہر قومیت یکساں حقوق کے ساتھ ملک کی ترقی اور خوشحالی میں حصہ لے۔اس ملک کے ہر شہری کو انصاف،تعلیم،صحت اور روزگار ملے۔بدقسمتی سے مملکت پاکستان نہ تو اسلام کی منزل حاصل کر سکی اور نہ فلاحی ریاست بن سکی۔یہاں تک کہ خود بانی پاکستان کو زیارت سے کراچی منتقلی کے دوران ایسے صدمات سے دوچار ہونا پڑا جنہوں نے یقینی طور پر ان کے نا تواں وجود کو ہلا کر رکھ دیا ہوگا لیکن اس وجود میں اتنی جان رہ ہی کب گئی تھی کہ وہ اپنا یا اپنے ملک کے لوگوں کا دفاع کر سکتا۔قائد اعظم کی رحلت کے بعد زمام اقتدار نوابزادہ لیاقت علی خان کے ہاتھوں میں آئی اور امید پیدا ہوئی کہ وہ پاکستان کی بیچ منجدھار پھنسی کشتی کو کنارے لگا دیں گے لیکن افسوس کہ نوابزادہ لیاقت علی خان بھی سازشی ٹولے کے خاتمے کی خواہش دل میں لئے پاکستان دشمنوں کے ہاتھوں موت سے ہمکنار ہو گئے اور اس کے بعد وہ دھما چوکڑی مچی کہ خدا کی پناہ۔وقت کے ساتھ ساتھ فلاحی ریاست کا تصور بھی گہناتا گیا اور قائد کی تراشیدہ یہ خوبصورت دھرتی اپنوں کے ساتھ غیروں کے لئے بھی بازیچہ اطفال بن کر رہ گئی۔سیٹو،سینٹو،انیس سو پینسٹھ کی جنگ،اقتدار کی رسہ کشی،پھر انیس سو اکہتر کی جنگ،شملہ معاہدہ اور نوے ہزار فوجیوں کی اسیری نے پاکستان کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ ان پے درپے صدموں نے وطن عزیز کو اس قدر نڈھال اور عوام کو بے حال کر دیا کہ ملک اور قوم دونوں نیم جان ہو کر رہ گئے۔افراتفری اور نفسا نفسی کے آثار شروع ہوئے تو فلاحی ریاست کا تصور دور کہیں افق کے اس پار چلا گیا اور گردش زمانہ کو ٹال کر زندہ رہنے کی آرزو ہی مقدم ہو کر رہ گئی۔ 

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم

تو نے وہ گنج ہائے گراں ماہ کیا کئے

وہ عظیم لیڈر کہ جسے تاریخ نے ’’دیدہ ور‘‘ کہا دنیا سے رخصت ہوا تو قوم یتیم ہو کر رہ گئی اور اس یتیم نے وہ صدمے سہے کہ اگر کسی اور قوم کو سہنے پڑتے توتباہ ہو جاتی لیکن چونکہ پاکستان کی بنیادیں لاکھوں مسلمانوں کے خون سے اٹھی تھیں اس لئے پاکستان بھی گر گر کر اٹھتا رہا اور قوم بھی آکسیجن ٹینٹ سے زندہ سلامت نکلتی رہی۔بے سمت اور بے منزل سماج ٹیڑھے میڑھے راستوں پر چلتا،گرتا اور اٹھتا رہا۔معاشرے کو ایک نظرئیے کی بنیاد پر کس طرح استوار کرنا ہے۔ایک ہجوم کی شیرازہ بندی کر کے اسے قوم کے قالب میں کس طرح ڈھالنا ہے آج کے لیڈروں کی بلا جانے۔ ان کے نزدیک قوم کی تعریف و تشریح فقط یہ رہی کہ اسے کھلونے دے کر بہلائو،ووٹ اینٹھو اور رفو چکر ہو جائو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس مملکت خداداد کو ایسے قدرتی وسائل سے نوازا تھا جن کا عالم میں کوئی ثانی نہیں۔زمینوں کی تہوں میں تیل،گیس اور کوئلے کے خزانے،زمین کے اوپر سمندر، دریا اور پہاڑ۔چار موسم،زرخیز زمینیں،دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام۔میٹھے پانی کے چشمے،قدرتی جھیلیں،ہر طرح کی قیمتی دھاتیں، سیاحوں کی جنت پر فضا گرمائی مقامات،محنتی اور جفاکش لوگ اور وہ سب کچھ جس کی کوئی بھی قوم تمنا کر سکتی ہے لیکن ہماری سوداگر سیاسی اور مالیاتی اشرافیہ نے ان وسائل سے ملک کو ترقی سے ہمکنار کرنے کی بجائے ہاتھوں میں بھیک کا کشکول پکڑ لیا اور نگر نگر گھومنے لگے۔جہاں سے امداد مل سکتی تھی وہاںسے امداد لے لی اور جہاں سے قرض مل سکتا تھا وہاں سے قرض لے لیا۔ساٹھ کی دہائی میں ہماری زراعت اتنی طاقتور تھی کہ ہمارے کسانوں نے چین جا کر چینی کاشتکاروں کو کھیتی باڑی اور فی ایکڑ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے گر بتائے۔چینیوں نے ان کے سکھائے ہوئے اسباق کو یاد کر کر کے زراعت میں وہ ترقی کی کہ دنیا کے لئے مثال بن گئے اور ہماری اپنی زراعت نشان عبرت بن کر رہ گئی ۔

پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کرنے والوں نے اپنے ہی ملک کو بے دردی سے لوٹا۔بہروپیوں کا ایک گروہ لوٹ لوٹ کر تھکا تو اصلاح احوال کا ڈرامہ رچا کر بہروپیوں کا ایک اور گروہ ہم پر مسلط ہو گیا۔اس نے بھی ملک کو جی بھر کے لوٹا۔ان لٹیروں نے لوٹ کے مال کو اس ڈر سے تجوریوں اور اپنے بینکوں میں نہ رکھا کہ کوئی اور نہ لوٹ لے۔ جو کچھ اکٹھا کیا سب پاکستان سے باہر بھیج دیا۔ رفتہ رفتہ کچھ ٹولے مالی طور پر اتنے مضبوط ہو گئے کہ اگر ان میں سے کسی کو چھینک بھی آجاتی تو علاج لندن اور برلن سے ہوتا۔پاکستان سے باہر اربوں روپے کی جائیدادیں، ہر بڑے شہر میں کوٹھیاں اور بنگلے۔بے حساب زرعی زمینیںاور شہر شہر پھیلی فیکٹریاں اور ملیں ایسے وجود میں آئیں کہ جیسے ان سب کے پاس الہ دین کا چراغ ہو۔یہ سب جھوٹے، مکار اور دغاباز دکھاوے کے لئے پاکستان کی مالا جپتے لیکن درحقیقت پاکستان ان کے لئے سونے کی کان تھا۔انہیں نہ تو اس سے کوئی سروکار تھا کہ قائداعظم کا پاکستان کے بارے میں کیا وژن تھا اور نہ اس بات سے کوئی واسطہ کہ بانی پاکستان نے ایک فلاحی مملکت کا خواب دیکھا تھاجو ابھی تک ادھورا پڑا ہوا ہے۔دنیا بھر کے معاشی ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ جب تک کوئی قوم معاشی طور پر مضبوط نہیں ہوتی اس وقت تک ذلیل و رسوا رہتی ہے۔اقتصادی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ جس قوم کا معاش سیدھا ہوگیا اس کے سارے کام سیدھے ہو گئے۔شاید اسی لئے کبھی پاکستان کی معاشی کمر سیدھی نہیں ہونے دی گئی اور آج ہم معاشی لحاظ سے اس مقام کو پہنچ گئے ہیں کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ مقروض پیدا ہوتا ہے اور دنیا سے جانے والا ہر بوڑھا قرض کا بوجھ اپنے ساتھ لے کر قبر میں اترتا ہے۔مرض اتنا بڑھ گیا ہے کہ پورے وجود کی سرجری کرنا پڑے گی۔کوئی ادارہ یا ادارے اگر یہ سمجھتے ہوں کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے بجائے اقتدار اگر پی ٹی آئی کو مل گیا تو پاکستان کے مسائل حل ہو جائیں گے تو خاطر جمع رکھے ایسا نہیں ہوگا کیونکہ آج کی پی ٹی آئی بھی افرادی طور پر ان دو جماعتوں سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔اس سوچ کو دور رکھ کر بہت بڑے فیصلے کرنے ہوں گے ورنہ کشتی میں جو چھید ہو چکے ہیں وہ ہمیں قومی طور پر غرق کر دیں گے۔

متعلقہ خبریں