Daily Mashriq


انتخابات میں عوام کی بدلتی ترجیحات

انتخابات میں عوام کی بدلتی ترجیحات

گزشتہ ہفتے پشاور سے قومی اسمبلی کے این اے 4کے ضنمی انتخاب ہوئے ۔یہ سیٹ تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے ممبر گلزار خان کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی۔ تمام سیاسی پا رٹیوں کی یہ کو شش تھی کہ قومی اسمبلی کی اس سیٹ کو ہر حالت میں جیتا جائے۔ملکی اور بین الاقوامی میڈیا اور آبزرور کی نظریں اس حلقے کی انتخاب پر لگی تھیں۔ یہ سیٹ پی ٹی آئی کے ارباب عامر ایوب نے جیتی ۔1970 کے عام انتخابات سے لیکر 2017 کے عام انتخابات تک، پاکستان پیپلز پا رٹی اور عوامی نیشنل پا رٹی نے یہ سیٹ3، 3 دفعہ جیتی، پی ٹی آئی 2 دفعہ، جماعت اسلامی اور جمعیت العلمائے اسلام نے این اے 4 کی یہ سیٹ ایک بار جیتی۔1970کے انتخا بات میں اس حلقے سے جے یو آئی کے مولانا عبد الحق، 1977 کے عام انتخا بات میں پی این اے سے بیگم نسیم ولی خان،1985 میں چا رسدہ کے نثار محمد خان، 1988 کے انتخابات میں پی پی پی کے سید مظفر شاہ، 1990کے عام انتخابات میں عوامی نیشنل پا رٹی کے اجمل خٹک، 1993ء میں پی پی پی کے نصیر اللہ بابر، 1997ء میں عوامی نیشنل پا رٹی کے ولی محمد خان، 2002ء میں ایم ایم اے سے جماعت اسلامی کے صابر حسین اعوان، 2008ء میں اے این پی کے ارباب ظاہر خان اور 2013 اور 2017 کے موجودہ ضمنی انتخاب میں بالترتیب پی ٹی آئی کے گلزار خان اور ارباب عامر ایوب کامیاب ہوئے ۔اگر ہم این اے 4 کے نتائج پر غور کریں تو اس سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اس حلقے کے الیکشن میں نہ تو قومیت پسند پا رٹی کو ووٹ ملے نہ مذہبی اور ترقی پسند پا رٹی کو ووٹ ملے۔ بلکہ الیکشن میں جن دو پا رٹیوں نے سب سے زیادہ ووٹ لئے ، ان میں زیادہ ووٹ تحریک انصاف نے اور دوسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ نے حا صل کئے۔اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے جبکہ وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے اور دونوںسیاسی پا رٹیوں نے صوبائی اور وفاقی وسائل کو کھل کر ایک دوسرے اور دوسری کئی سیاسی پا رٹیوں کے خلاف استعمال کیا۔ اور خوش قسمتی صوبائی حکومت تحریک انصاف کی تھی اور اس حلقے میں اُنکے صوبائی وسائل کام آئے۔ ایک بین الاقوامی آبزرور کا کہنا ہے کہ اس ضمنی الیکشن میں دونوں پا رٹیوں نے سیٹ کو جیتنے کے لئے وسا ئل کاریکا رڈ قائم کیا ہے۔ یہ میرا تجزیہ ہے کہ ہمارے معا شرے میں عام لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل ہوتے ہیںجن میں بچے بچیوں کا سکول اور کالج میں ایڈمشن،بجلی‘ پانی اور گیس کے کنکشن،روڈ‘ گلی پکی کرنا، ٹرانسفارمر کی تنصیب یا مرمت، تھانہ کچہر ی کے معاملات، پٹواری سے زمینوں کاکام اور اسکے علاوہ اور بھی چھوٹے چھوٹے کام اور مسائل ہو تے ہیں اور بد قسمتی سے وہ مسائل یا تو خراب حکمرانی کی وجہ سے ہو تے ہیں اور یا ہمارے حکمران قصداً یہ مسائل حل نہیں کرتے تاکہ عوام اُنکے محتاج یا دست نگر رہیں۔ جب انتخابات کے دن قریب آتے ہیں تو اشرافیہ اور حکمران طبقہ اپنے اور حکومتی وسائل کے خزانے کھول لیتے ہیں اور ان غریبوں سے بجلی، گیس، پانی، کالج ، سکول ، یونیورسٹی ایڈمشن، گلی کو چوں کو تعمیر کرنے، تھانہ کچہری اور یہاں تک کہ کئی علاقوں میں ایک گھی کے ڈبے ، آٹے کے تو ڑے او ر کچھ علاقوں میں پانچ پانچ سو، ہزار ہزار اور یہاں تک کہ لنچ بکس پر ووٹ لیتے ہیں۔ووٹ لیکر ایم این اے، ایم پی اے چار سال تو غائب ہو تے ہیں اورپھر پانچ سال بعد نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں ۔اگر ہم مزید غور کریں تو این اے 4 کے الیکشن میں قومیت پسند، ترقی پسند، پرو گریسیو، سیکولر اور مذہبی ساری سیاسی پا رٹیاں شکست کھا گئیں ‘ صرف اور صرف پیسہ اور وسائل جیت گئے۔ بد قسمتی سے لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل ہو تے ہیں جنکے بدلے ہر دور کے ووٹر اپنا ووٹ کسی نہ کسی کام کے عوض، جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کو دیتے ہیں۔پچھلے دور میں عوام قبیلے، ذات پات ، قومیت پسندی،مذہب کے نام پر ووٹ دیتے تھے مگر این اے 4 کے الیکشن میں مندرجہ بالا سارے رُجحانات تبدیل ہو گئے۔ اور وہی اُمیدوار الیکشن میں کامیاب ہوتا ہے جس کے پا س اپنے یا ریاستی وسائل ہوں۔ اگر ہم مزید غور کریں جب تک ملک میں یو رپ کی طر ح تعلیم اور لوگوں کی شعوری سطح بلند نہیں ہوگی اور لوگوں کے مسائل حل کرنے میں ریاست اپنا کر دار ادا نہیں کرتی قانون اور انتخابات کے طریقہ کار پر سختی سے عمل نہیں ہوگا اُس وقت تک انتخابات پر بات کرنا فضول ہے۔ لہٰذا اس مروجہ انتخابی نظام کے تحت انتخابات کے انعقاد سے ہماری ملکی معیشت اور سیاسی حالت پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہو نگے۔ ۱۸ ۲۰ کے عام انتخابات سے پہلے الیکشن کے نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ۔ جس ملک میں ووٹر کو یہ پتہ نہیں کہ ووٹ کی اہمیت اور قدر کیا ہے اس ووٹ سے کیا تبدیلی آ سکتی ہے ۔بد قسمتی یہ ہے کہ ووٹر کی کم تعلیم کی وجہ سے شعور اُس سطح پر نہیں جس پر ہونا چاہئے۔ جب تک سیاسی پا رٹیوں میں موروثیتختم نہیں ہوپاتی ،آرٹیکل 62 اور 63 پر عمل نہیں کیا جاتا ۔ الیکشن قوانین میں اصلا حات نہیں کی جاتیں ۔ ایم پی اے، ایم این اے، سینیٹ اُمیدوار کے لئے تعلیمی معیار کم ازکم ایم اے نہ ہو اور ساتھ وہ پبلک سروس کمیشن کی نگرانی میں انٹری ٹیسٹ پا س نہ کرلیں ۔ پا رٹیوں میں انتخا بات نہیں کرائے جاتے ۔ اُس وقت تک الیکشن کرنا فضول ہے۔ مُجھے اس بات میں کوئی جھجک نہیں کہ مندرجہ بالا قوانین کی عدم موجودگی کی صورت میں کوئی بھی نظریہ ، عقل اور شعور ، حب لوطنی جیت سکے بس پیسہ اور روپیہ جیتے گا۔

متعلقہ خبریں