غلنئی (نمائندہ مشرق)امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں فاٹا کے انضمام کے لیے تین سال کی طویل مدت کسی طور قابل قبول نہیں جماعت اسلامی فوری انضمام کا مطالبہ کرتی ہے۔ وہ محمد گٹ میں جماعت اسلامی مہمند ایجنسی کے امیر ملک سعید خان کی حلف برداری کے موقع پر عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر جماعت اسلامی فاٹا کے امیر حاجی سردار خان، نائب امیر ڈاکٹر منصف خان، نومنتخب امیر ملک سعید خان اور جماعت اسلامی یوتھ مہمند ایجنسی کے صدر ملک فردوس خان نے بھی خطاب کیا۔
مشتاق احمد خان نے کہا کہ فاٹا کا صوبہ خیر پختونخوا میں فوری انضمام، یہاں پر لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ،بے گھر ہونے والے قبائلیوں کی باعزت واپسی اور سی پیک میں فاٹا کو اس کا جائز حق دلانا ہمارا چارٹر آف ڈیمانڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا پاکستان کا پسماندہ ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ جماعت اسلامی اس کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے دل و جان سے کوشاں ہے۔انہوں نے کہا کہ فاٹاکی پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ ایف سی آر ہے اور جن لوگوں کو یہ کالے قوانین پسند ہیں وہ اپنے گھروں اور پارٹیوں میں اسے نافذ کریں۔انہوں نے کہاکہ اس فرسودہ قانون کی وجہ سے فاٹا ایک آتش فشاں بن چکا ہے اور یہاں کے عوام ہر طرح کے خطرات میں گری زندگی گزار رہے ہیں۔ مشاق احمد خان نے کہا کہ فاٹا میں پسماندگی کی رہی سہی کسر بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے پوری کر دی ہے ۔یہاں کی معیشت تباہی سے دو چار ہے، ٹیوب ویل اجڑ گئے ہیں، فصلیں اور باغات ویران ہیں ۔ سکول و کالج نہ ہونے کی وجہ سے پورا خطہ ترقی سے محروم ہے۔ حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے یہاں کے عوام پتھر کے زمانے میں رہ ہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خطہ کی ترقی کا واحد طریقہ یہ ہے کہ یہاں کے عوام کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے اور اس کی ترقی کے لیے پانچ ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے چار دسمبر کو پشاور میں گرینڈ قبائلی جرگہ طلب کیا ہے جس میں ایف سی آر کے خاتمہ کے لیے قبائلی مشران سے مل کر لائحہ عمل طے کریں گے۔