پشاور(مشرق نیوز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ٹیوٹا کے قیام کے مطلوبہ اہداف کا حصول یقینی بنانے کیلئے اسکی کارکردگی مزید بہتر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوںنے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اختیارات استعمال کرے اور مانیٹرنگ یقینی بنائے وزیراعلیٰ نے ٹیوٹا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے وائس چیئرمین کی تعیناتی عمل میں لانے جبکہ مینجمنٹ ڈائریکٹر کیلئے نام تجویز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ بورڈ کو مکمل با اختیار دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میںاعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز پشاور حاجی محمد افضل، ٹیوٹا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے دیگر اراکین اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ان کی حکومت صوبے میں بے روزگاری کے خاتمے اور ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ ٹیوٹا کا قیام اس سلسلے میں صوبائی حکومت کا ایک اہم اقدام ہے جسے مزید مضبوط اور فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ اس قوم کے غریب بچوں کو تربیت دے کر روزگار فراہم کرنا بہت بڑی خدمت ہے۔ ہم حکومت کے اس اقدام کو حقیقی معنوں میں بار آور دیکھنا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ان کی حکومت نے سیاسی مداخلت کا خاتمہ کرکے اداروں کو با اختیار بنایا ہے تاکہ اداروں کے قیام کے اہداف کا حصول ممکن ہو سکے۔متعلقہ حکام بورڈ کے قیام کے پیچھے حکومتی مقاصد کو سمجھیں اور اپنے اختیارات استعمال کریں۔ ہم اداروں کی ترقی میں نہ ہی وسائل کی کمی آڑے آنے دیں گے اور نہ ہی کوئی رکاوٹ برداشت کریں گے۔ ہم عوام کو جوابدہ ہیں اور عوام کو ڈیلیور کرنا ہے۔ اداروں کی کارکردگی نہ کھانے پر متعلقہ حکام جوابدہ ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ان کی حکومت نے صوبے کے ہسپتالوں اور ترقیاتی اداروں میں بھی آزاد اور بااختیاربورڈ بنائے ہیں جن کے نتائج دیکھے جا سکتے ہیںدریں اثناء وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میں یونائٹیڈ ریذیڈنٹ کو آرڈنیٹر نیل بونہے کی سربراہی میں یونائٹیڈنیشن ڈویلپمنٹ پروگرام کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ فاٹا کی ترقی کیلئے بہترین حل یہی ہے کہ صوبے میں موجود نظام کو فاٹا تک توسیع دی جائے کیونکہ وہاں کے عوام اس نظام سے بخوبی آشنا ہیں۔ کو ئی بھی نیا تجربہ ناکام ہو گا اورہم نئے تجربات کے متحمل بھی نہیں ہو سکتے ہمارا مسئلہ غیر رجسٹر ڈافغان مہاجرین ہیںجن کی وجہ سے سکیورٹی کے مسائل پیداہوتے ہیں۔ ہمارا شروع سے موقف رہا ہے کہ مہاجرین کی رجسٹریشن کا مسئلہ حل کیا جائے۔ دُنیا میں کوئی بھی ملک کسی کو بھی بغیر شناخت کے آزادانہ گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں دیتا ہم نے مہاجرین کے مسائل حل کرنے کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹیاں بنائی ہیں اگر پولیس کسی کو پکڑ بھی لیتی ہے تو اسے کمیٹی کے سامنے پیش کرتی ہے ۔ کمیٹی کی ضمانت پر اُسے چھوڑ دیا جا تا ہے ۔اس کے علاوہ ٹریول این او سی بھی دو دن کے اندر فراہم کردیا جا تا ہے۔ وزیراعلیٰ نے افغان مہاجرین کی تعلیم و تربیت ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہاکہ اقوام متحدہ ترقیاتی ادارہ، یو این ایچ سی آر اور دیگر اداروں کو مہاجرین کی تعلیم پر بھر پور توجہ دینا چاہیئے انہوںنے کہا کہ ہم سکولوں میں گزشتہ 70 سال کی کمزوریوں کو دور کررہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں مطلوبہ عملے اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں پرائمری کی سطح پر بنیادی انگلش بھی شروع کر چکے ہیں تاکہ غریب کے بچے بھی آگے جا کر امیروں کا مقابلہ کر سکیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ کامیاب آپریشن ضرب عضب اور بارڈر مینجمنٹ کی وجہ سے صورتحال میں کافی بہتری آچکی ہے۔ انہوںنے کہاکہ انگلینڈ کے حالیہ دورہ کے دوران مجھے سکاٹ لینڈ پولیس اور لندن کی مقامی حکومتوں کا نظام دیکھنے کا موقع ملا۔ ہمارا پولیس اور مقامی حکومتوں کا نظام ان سے بہتر ہے جسے انہوں نے سراہاہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پشاور میں ماضی میں جن مسائل کا سامنا تھا ان پر بتدریج قابو پارہے ہیں۔ ہمارا ماس ٹرانزٹ منصوبہ پشاور کی تقدیر بدل دے گا ۔ صوبے میں صنعتوں کے قیام کیلئے این او سی کی شرط ختم کر دی گئی ہے ہم مستقبل میں باہمی تعاون کے پہلوئوں اور باہمی دلچسپی کے اُمور پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں تاکہ انسانیت کی خدمت کیلئے ہماری باہمی کوششیں بار آور ثابت ہو سکیں۔وفد نے بہترین طرز حکمرانی اور قانو ن کی حکمرانی میں خیبرپختونخو اکی بہترین کارکردگی کو سراہا اور کہاکہ یہ موجودہ حکومت کا تاریخی کارنامہ ہے۔ انہوں نے تعلیم، صحت اور پولیس کے شعبوں میں بھی حکومتی اصلاحات کو سراہا اور مستقبل میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا ۔