ایف سی آرخاتمہ میںتاخیر کیخلاف سڑکوں پر آئیںگے

پشاور(نامہ نگار)فاٹا سیاسی اتحادنے حکومت پر واضح کیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے اور ایف سی کے خاتمہ کیلئے سنجیدہ نہیں ہے تو قبائلی عوام اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پرنکل آجائینگے اور اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی گزشتہ روز پریس کلب میں امیر جماعت اسلامی اورفاٹا سیاسی اتحاد کے صدر سردان خان' اعجاز' تحریک انصاف رہنماء اقبال آفریدی و دیگر نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ 12دسمبر کو تمام ایجنسیوں کے سیاسی پارٹیوں کے صدور کا اجلاس منعقد کیا جائے گاجس میں ترمیمی بل قومی اسمبلی میں آخری لائحہ عمل ثابت ہوگا،حکومت کی طرف سے مزید تاخیر اور حربے برداشت نہیں کیا جائے گا۔انکا کہنا تھا کہ ستمبر میں بل پیش کیا گیا تھا جو اس وقت قومی اسمبلی سے سینٹ میں ہے،انسانیت بندوق سے قلم کی طرف آئی لیکن افسوس کہ آج تک فاٹا میں ایف سی آر قانون رائج ہے،ایف سی آر سے صرف اور صرف مفاد پرست ٹولہ فائدہ اٹھا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کے اندر مقننہ 'عدلیہ اور انتظامیہ ہے لیکن فاٹا میں نہیں ہیں جس کی وجہ سے قبائلی عوام مایوسی کا شکار ہیں،فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے جس سے وہاں کے عوام میں کافی حد تک محرومیاں ختم ہوجائینگی،2018 الیکشن سے پہلے فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرکے صوبائی اسمبلی میں آبادی کی تناسب سے سیٹیں مختص کی جائے،قبائلی عوام کو سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں اپیل کا حق دیا جائے،فاٹا کو ملاکنڈ کی طرز پر ٹیکس فری زون قرار دیا جائے،ہر ایجنسی میں فاٹا یونیورسٹی کمپس 'انجینئرنگ یونیورسٹی 'میڈیکل کالج اور سپورٹس کمپلیکس قائم کیا جائے۔