غلنئی (نمائندہ مشرق)فاٹا عمائدین کا پشاور باغ ناران میں گرینڈ جرگہ نے فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کی پھر پور مخالفت کی ایف سی آر میں وقت کے ساتھ ساتھ اصلاحات چاہتے ہیں۔ قبائلی عوام کے مشاورت کے بغیر کوئی بھی قانون نہیں مانتے۔گورنر خیبر پختونخوا فریق بننے کی بجائے ہمارے مطالبات سنیں۔پچاس رکنی کمیٹی تشکیلدی گئی جو آئندہ لائحہ عمل تیار کرے گی۔ان خیالات کا اظہار باغ ناران میں گرینڈ قبائلی جرگہ سے فاٹا کے قبائلی عمائدین ملک خان مرجان،ملک بہادر شاہ۔،ملک عطاء اللہ،ملک آیاز خان، ملک نصرت،ملک نادر منان،ملک فیض اللہ،ملک وارث خان، ملک فیاض، ملک خالد خان و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام پر مزید تجربات کی بجائے ان کی داد رسی ہونا چاہیئے۔ان کے بنیاد ی مشکلات پر عور کرنا چاہیئے۔ ہم ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ نہیں اور نہ گورنر سیکرٹریٹ یا پولیٹیکل ایجنٹس کے غلام ہیں۔بلکہ ہم قومی مشران ہیں اور ہم پر یہ ذمہ داری ہوگی کہ قوم کے نمائندگی کر سکیں ۔ کیونکہ موجودہ وقت میں فاٹا کے چار پارلیمنٹیرین ہم پر غلامی کا الزام لگاتے ہیں ۔حالانکہ وہ اب خود گورنر کے غلام بن گئے ہیں۔اور ذاتی مفادات کی خاطر فاٹا کو تباہ کر رہے ہیں۔کیونکہ قبائلی عمائدین اپنا تشخص کو ہر صورت میں برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔ خواہ وہ الگ صوبہ ہو یا خود مختار کونسل جس کو فاٹا سکرٹریٹ اور پولیٹیکل ایجنٹس جو ابدہ ہوں۔ ہم پسماندہ ہیں ، مزید پسماندگی کی طرف دھکیلنا ہمارے ساتھ سراسر ظلم وانصافی ہے۔ گورنر خیبر بختواہ خواہ فریق بننے کی بجائے قبائیلیوں کے مطالبات سن لیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم وقت کے ساتھ ساتھ ایف سی آر میں بھی اصلاحات چاہتے ہیں مگر وہ اصلاحات جس سے ہماری قبائلی حیثیت ختم نہ ہو ، آخر میں فاٹا سے پچاس رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔جس میں کرم ایجنسی، خیبر ایجنسی، وزیرستان،ایف آرز باجوڑ اور مہمند ایجنسی کے مشران شامل تھے۔مہمند ایجنسی سے ملک نادر منان ،ملک عطائاللہ ملک فیاض،ملک بدری زمان،ملک نصرت خان ملک اسرائیل خان،ملک امیر نواز،ملک منظور خان،ملک صاف خان ملک زیارت گل کمیٹی میں شامل ہیںجوکہ مہمند ایجنسی کے عمائدین کو صورت حال سے اگاہ رکھیں گی۔