پشاور( نیوز رپورٹر) فاٹا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے تنظیم کے مرکزی صدر شوکت عزیز کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ تیز کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے غیرمشروط طوررہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور رہانہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ پورے ملک تک پھیلا نے کی دھمکی دی ہے اتوار کو فاٹا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے درجنوں طلباء نے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین نے پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے جس پر مرکزی صدر کی فوری رہائی اور 'گو ایف سی آر گو' کے نعرے درج تھے۔مظاہرین نے ضلعی انتظامیہ کیخلاف نعرے بازی کی، قبائلی طلباء نے صدر کی رہائی تک پشاور پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی کیمپ بھی قائم کر دیا ہے،شوکت عزیز کو دو دن پہلے پشاورضلعی انتظامیہ نے امن عامہ میں خلل ڈالنے کے جرم میں گرفتار کر لیا تھاجس کی تصدیق ڈپٹی کمشنر پشاور نے کی ہے،ایف ایس او کی مرکزی جنرل سیکریٹری ثمرینہ خان وزیر کا کہنا ہے کہ شوکت عزیزکوچنددن پہلے فاٹا سیکریٹریٹ کی طرف سے فاٹا اصلاحات بارے پشاور میں منعقدہ پروگرام میں ایف سی آرکے خلاف نعرہ بازی کرنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا ہے جسمیں گورنرپختونخوا اورسپیکرصوبائی اسمبلی بھی شریک تھے۔ثمرینہ خان نے الزام لگایا کہ مرکزی صدر کو ڈپٹی کمشنر پشاور کے دفتر میں بلا کر وہاں سے گرفتار کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ان کے سامنے شرط رکھی گئی کہ یا تو وہ آئندہ سے ایف سی آر کے خلاف مہم سے دور رہیں گے یا پھر گرفتاری کے لیے تیار ہو جائیں اور جب شوکت عزیز نے انکار کیا تو انھیں اسی وقت دفتر ہی سے حراست میں لے لیا گیا۔