پشاور(سپیشل رپورٹر)خیبر پختونخوااسمبلی میںفاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے سے متعلق قرارداد کی کثرت رائے سے منظوری دے دی گئی جبکہ اپوزیشن جماعت جمعیت علمائے اسلام(ف) نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی بھرپورمخالفت کرتے ہوئے فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا ایوان نے جے یو آئی کی جانب سے شام،حلب اور برما میں عورتوں اوربچوں کے قتل عام اور مظالم کے حوالے سے مذمتی قرار داد کی متفقہ منظور ی دیتے ہوئے وفاق سے مطالبہ کیا کہ وزارت خارجہ اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کے فورم پر اٹھائے گزشتہ روز اسمبلی اجلاس کے دوران تحریک انصاف کے ڈاکٹر حیدر علی نے فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق قرارداد پیش کی جس کی قومی وطن پارٹی، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے حمایت کی جبکہ جے یو آئی ف نے قرار داد کی محالفت کی قرار داد میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ فاٹا کو فوری طور پر خیبر پختو نخوا میں ضم کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں جے یو آئی ف کے رکن مفتی سید جانان نے موقف اختیار کیا کہ جے یو آئی فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی مخالفت کرتی ہے فاٹا کو خیبر پختو نخوا میں ضم کرنے میں ایک تو فاٹا کے عوام کی رائے شامل نہیں ہے اور دوسری جانب خیبر پختو نخوا کے پاس اتنے وسائل نہیں ہے کہ وہ فاٹا جیسے پسماندہ علاقے کو سنبھال سکے اور ان کی محرمیوں کو دور کرسکیں اورفاٹا کے ابتر حالات پر قابو پالیںانہوں نے مطالبہ کیاکہ فا ٹا کوعلیحدہ صوبے کی حیثیت دی جائے ایوان نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے سے متعلق قرارداد کی کثرت رائے سے منظوری دے دی اسمبلی اجلاس میں جے یو آئی ایف کے مفتی فضل غفور نے شام ،حلب اور برما کے بچوں کے قتل عام کے بارے میں مذمتی قرار داد پیش کی اور مطالبہ کیا گیا کہ وزارت خارجہ برما، شام اور حب میں مظلوم اور بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام پر معنیٰ خیز خاموشی توڑ کر بین الاقوامی سطح پر اس کے خلاف آواز اٹھائے اوراقوام متحدہ،او آئی سی اور تمام مسلم ممالک سے مطالبہ کرتی ہے وہ فوری طور پر ان ممالک میں معصوم بچوں کی جاری قتل عام کو رکوائیں اور ان ممالک میں جاری خانہ جنگی کو بند کرنے میں اپنا کردارادا کرے بعد ازاں ایوان نے قرارداد کی متفقہ منظوری دے دی ۔