Daily Mashriq

پشاور(نیوزرپورٹر)خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاورسے کروڑوں روپے کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق سکینڈل کی چھان بین میں نئے زاویے سامنے آگئے، وہیل چیئر پر بیٹھی خاتون کمپیوٹر آپریٹر گزشتہ 10 سال سے اپنے جعلی اکائونٹس میں رقم منتقل کرتی رہی اور ہسپتال کا سسٹم اس چوری کو پکڑنے میں ناکام رہا اس سلسلے میں جاری انکوائری میں2008سے جاری فراڈ میں اب تک5کروڑ30لاکھ روپے خاتون کے کھاتے میں منتقل ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں سے تقریباً ایک کروڑ10 لاکھ روپے ہسپتال کو واپس کردیئے گئے ہیں ۔ ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ ہسپتال کے اکائونٹس سے لاکھوں روپے منتقل ہوکر مبینہ طور پر خاتون کے قریبی عزیزوں کے بینک اکائونٹس میں جاتے رہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ آئندہ چند روز میں رپورٹ محکمہ صحت کو پیش کردی جائیگی جس میں کیس کی مزید چھان بین نیب سے کرانے کی سفارش کی جائیگی واضح رہے کہ گزشتہ ماہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاورکے آڈٹ اینڈ اکائونٹس سیکشن میں معذور کوٹہ پر بھرتی ہونیوالی ایک خاتون ملازمہ کے بینک اکائونٹ میں ایک کروڑ سے زائد پیسے ملنے کا فراڈ سامنے آیا تھا یہ پیسے ہسپتال کے اکائونٹ میں واپس جمع کرانے کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے معاملہ دبانے کی کوشش کی تھی جس پرمحکمہ صحت نے ہسپتال کے بورڈ آف گورنر کو انکوائری کا حکم جاری کیا تھا اور اس تناظر میں محکمہ صحت کے گریڈ بیس کے ایک سینئر افسر کو بھی6رکنی انکوائری ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس سکینڈل میں نیا موڑ آگیا ہے اور انکوائری کے مطابق 2008سے 2018تک دس سال سے ہسپتال کے فنڈز سے باقاعدگی کے ساتھ پیسے مختلف بینکوں کے اکائونٹس میں منتقل ہوتے رہے ہیں جس میں ہسپتال سے مجموعی طور پر پانچ کروڑ روپے30لاکھ روپے وہیل چیئر پر بیٹھی خاتون نے اپنے اکائونٹس میں منتقل کئے لیکن اس دوران ہسپتال کی متعلقہ انتظامیہ کو کوئی خبرنہیں ہوسکی۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ فراڈ سسٹم نے نہیں پکڑابلکہ اچانک پکڑا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ سسٹم میں کرپشن اور غبن کیلئے راستے موجود ہیں جس کا فائدہ اٹھایاگیا ۔انکوائری کی ابتدائی چھان بین کے مطابق مذکورہ خاتون کو2003میں معذور کوٹہ پر ہسپتال میں بھرتی کیا گیا اس لئے2008سے پہلے کے تمام ریکارڈ کی بھی چھان بین کی جائیگی ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ اس مقصد کیلئے محکمہ انٹی کرپشن کو ایف آئی آر درج کرانے کی درخواست کی تھی تاہم انکوائری میں شامل ممبرز نے مشرق کو بتایا ہے کہ اس کیس کو نیب کو حوالے کیا جائیگا اس حوالے سے تفتیش میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ خاتون نے پیسے اپنے دو قریبی عزیزوں کے اکائونٹس میں منتقل کئے جہاں سے انہوں نے پوش علاقے میں بنگلہ خریدا، قیمتی گاڑیاں خریدیں اور کاروبار جمایا ۔